کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 275
شوہر بھٹکے ہوئے تھے۔ لیکن کم و بیش نصف (۴۶ فی صد) شوہروں نے اپنی سابقہ بیویوں (سے تعلق والے لوگوں) کے حوالے سے واضح طور پر نشان دہی کی۔ (خلاصہ کلام یہ ہے، کہ) سارے امریکہ میں (شادی شدہ لوگوں کا اپنے دائرے سے باہر) بھٹکتے پھرنا بہت زیادہ ہے۔‘‘[1]
دوسری طرف قابلِ غور بات یہ ہے، کہ کنبوں کی تشکیل اور ان میں باہمی ربط میں بچوں کا وجود اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن وہ بچے جن کے باپوں کا حتمی علم نہ ہو، کسی خاندان کو اکٹھے رکھنے میں کیا اثر رکھیں گے؟
اس تشکیک کے نتیجے میں شوہر اور اس کی اولاد اور میاں بیوی میں قلبی ربط کمزور پڑجاتا ہے اور ان کے درمیان خاندانی زندگی کو مربوط رکھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اسی لیے خاندانی نظام ہمیشہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے۔ ان لوگوں کی صورتِ حال کے متعلق ول دیورانٹ نے لکھا ہے:
اب بڑے شہروں میں گھر کا نظام ختم ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ایک ہی (خاتون) پر اکتفا کرنے والی شادی نے اپنی جاذبیت کھودی ہے اور بلاشک و شبہ ؔ [متعہ کی شادی] بہت بڑی اکثریت کی تائید کی وجہ سے کامیاب ہونا شروع ہوجائے گی، کیونکہ شادی سے افزائش نسل تو مقصود ہی نہیں۔ آزاد شادی خواہ جائز ہو یا ناجائز، اس کے رواج میں اضافہ ہوجائے گا۔ ہر چیز میں مرد کی تقلید کرنے کے بعد عورت مرد کو شادی سے پہلے تجربہ کی
[1] اس بارے میں رپورٹ کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"Over 70% of men and women aged 25-44 have ever been married; 71% of men and 79% of women."
[2] اس سلسلے میں رپورٹ کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"The probability that men will marry by age 40 is 81%; for women 86%."
رپورٹ کا عنوان:
[Who marries and when? Age at First Marriage in the United States: 2002]
By: Paula Goodwin, Ph.D, Brittany McGill, M.P.P., and Anjani Chandra, Ph.D. no 19, June 2009.
[3] اس سلسلے میں ذیل میں دو اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
ا: اسی سلسلے میں لندن سے شائع ہونے والے اخبار [الشرق الاوسط] نے ۱۵ جولائی ۱۹۷۹ء کے شمارے میں اعدادو شمار دیتے ہوئے لکھا:
یورپ میں ۷۵ فیصد شوہر اپنی بیویوں کی خیانت کرتے ہیں۔ عورتیں بھی یہی کام اس سے کچھ کم شرح سے کر رہی ہیں، جہاں تک شادی سے پہلے کا معاملہ ہے، تو ۸۰۔۸۵ فیصد مردوں کی گرل فرینڈز ہیں۔ ہر ایک نے ایک ایک [گرل فرینڈ] رکھی ہوئی ہے۔ یہ لوگ اپنی بیویوں کی نسبت اپنی [گرل فرینڈز] سے خیانت کم کرتے ہیں۔ (بحوالہ مجلہ ’’الأمان‘‘ لبنان مورخہ ۱۰ محرم ۱۴۰۰ھ)۔ ب: جیمز پیٹرسن اور پیٹرکم اس حوالے سے امریکہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’امریکہ کے تمام شادی شدہ لوگوں میں سے تقریباً ایک تہائی (۳۱ فی صد) کے (شادی سے) پہلے یا (شادی کے) بعد (ناجائز جنسی) تعلقات ہیں۔ یہ ہالی وڈ یا نیویارک شہر کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ قومی سطح پر زنا کرنے والوں کا تناسب ہے۔
یہ تعلقات ایک رات تک رہنے والے نہیں۔ امریکی (ناجائز جنسی) تعلقات اوسطاً کم و بیش ایک سال تک چلتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے، کہ ان تعلقات کے باقی رہنے کی قوت بہت سی امریکی شادیوں سے زیادہ ہے۔
اس (صورتِ حال) کے خاتمہ کے کوئی آثار نہیں۔ ان دھوکہ بازوں کی ایک اقلیت (۲۸ فی صد) کے ہاں ایسے موجودہ تعلقات کو جلد ختم کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔‘‘
’’ہالی وڈ کی بیویوں اور ہالی وڈ کے خاوندوں کو بھول جائیے۔٭ یہ وہ (معاملہ) ہے، جو بوسٹن، برمنگھم اور ہر امریکی شہر یا قصبے ، جس کا بھی آپ آج نام لیجئے، میں حقیقتاً ہورہا ہے۔
آج، امریکیوں کی اکثریت (۶۲ فی صد) کا خیال ہے، کہ ان کے (دائرہ شادی سے باہر) کے تعلقات میں کوئی اخلاقی غلطی نہیں۔ مزید برآں ہم ان کی تباہ کن ’’عقلی توجیہ‘‘ سنتے ہیں:
’’ہمارے علاوہ ہر شخص بھی تو یہی کر رہا ہے۔‘‘٭٭
٭ یعنی ہم فلمی دنیا میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کی بات نہیں کر رہے۔
٭٭ "The Day America Told The Truth" p.94-95.
اقتباس کے الفاظ یہ ہیں:
"Almost one-third of all married Americans (31 percent) have had or are now having an affair. This isn't a number from Hollywood or New York City. It's the national average for adultery. The affairs aren't one-night stands either. American affairs last, on the average, almost a year. That shows more staying power than do many American marriages.
The end is not in sight. Only a minority of those who are cheating (28 percent) have any plans to end their current affairs soon."
"Forget about Hollywood Wives and Hollywood Husbands. Here's what is really happening in Bostin and Birmingham and in anyother U.S. city or town you name Today, the majority of Americans (62 percent) think that there's nothing morally wrong with the affairs they're having. Once again, we hear the killer rationalization that "everybody else does it too."