کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 274
ب: ’’۲۵ سے ۴۴ سال کی عمر کے مردوں اور عورتوں کی ستر فیصد سے زیادہ تعداد نے کبھی بھی شادی نہیں کی، (ان میں سے) ۷۱ فی صد مرد اور ۷۹ فی صد خواتین ہیں۔‘‘[1]
ج: ’’مردوں کے ۴۰ سال کی عمر میں شادی کرنے کے امکانات ۸۱ فیصد اور خواتین کے ۸۶ فیصد ہیں۔‘‘[2]
ج: زنا کے عام ہونے کا خاندان کی شکست و ریخت کا سبب ہونا:
جب کسی معاشرے میں زنا عام ہو جائے، تو شادی کرکے کنبہ تشکیل دینے والوں کی ایک بڑی اکثریت شادی کو بھی جنسی ضرورت پورا کرنے کی ایک شکل ہی سمجھتی ہے۔
جس شادی کا یہ حال ہو، تو وہ شادی شدہ جوڑوں کو ناجائز جنسی تعلقات سے روکنے میں اپنا کردار کس طرح ادا کر پائے گی؟[3]
[1] تیار کردہ از مارک مارتھر [Mark Marther] اور ڈیانا لیوری [Diana Lavery] مارک مارتھر ایڈیشنل نائب صدر اور ڈیانالیوری آبادی کے متعلق محکمہ کے داخلی پروگرام میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔
رپورٹ کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:
"Between 2000 and 2009 the share of young adults ages 25 to 34 who are married dropped 10 percentage points, from 55 percent to 45 percent, according to ACS data. During the same period, the percentage who never been married increased sharply, from 34 percent to 46 percent."
[2] رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں:
"During the latter half of the 20th century, there were notable increases in the age of first marriage among Americans and related increases in the proportion of unmarried and never married adults."