کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 267
تعداد بالترتیب ۴۰ اور ۳۳ ہوگئی اور ۲۰۰۷ء میں یہ تعداد علی الترتیب ۲۲ اور ۲۰ رہ گئی۔[1] ۷: قومی شماریات برطانیہ کی جانب سے شائع شدہ رپورٹ میں ہے: ’’ابتدائی معلومات کے مطابق ۲۰۰۹ء میں یو۔ کے۔ میں شادیوں کی تعداد ۹۵۰،۶۶،۲ تھی۔ یو۔کے میں شادیوں کی طویل تصویر (یعنی داستان) زو ال کی (ایک کہانی) ہے ، جو کہ ۱۹۷۲ء میں ۲۸۵، ۸۰،۴ شادیوں کی تعداد کی بلندی پر تھی۔ انگلستان اور ویلز میں ۲۰۰۹ء میں غیر شادی شدہ بالغ لوگوں کی تعداد بڑھی، لیکن شادی کی رغبت رکھنے والوں کی تعداد میں اس قدر کمی آئی، کہ وہ ۱۸۶۲ء، جب کہ پہلی دفعہ ایسے لوگوں کی رجسٹریشن شروع ہوئی، سے لے کر اب تک کی سب سے کم شرح تھی۔ ۲۰۰۹ء میں ۱۶ سال اور اس سے زیادہ عمر والے ایک ہزار غیر شادی شدہ مردوں میں سے شادی کرنے والوں کی ابتدائی اندازے کے مطابق شرح ۳۔۲۱ تھی،
[1] "The Death of the West" p.21. اقتباس کے الفاظ درج ذیل ہیں: "More than half of all Japanese women now remain single by thirty years of age. Known as "Parasite Singles", they live at home with their parents and pursue careers, and many have abondoned any idea of marrying and having children." "Live for myself and enjoy life" is their motto."