کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 266
خواتین [غیر شادی شدہ] رہتی ہیں۔ انھیں [مفت خور غیر شادی شدہ خواتین] کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ گھروں میں رہتی اور اپنی ملازمت کے سلسلے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد خواتین نے شادی کرنے اور بچے جنم دینے کے خیال ہی کو ترک کردیا ہے۔ ان کا شعار یہ ہے: [’’میں اپنے لیے جی رہی ہوں اور زندگی کا لطف لے رہی ہوں۔]‘‘[1] ۶: اینڈی مکسمتھ (Andy McSmith) نے برطانیہ میں شادی کرنے کی متوسط عمر کے بہت زیادہ ہونے اور شادی کی رغبت رکھنے والوں کی تعداد میں انحطاط کے متعلق لکھا ہے: اگر لوگ شادی بھی کریں، تو شادی کرنے کی متوسط عمر (اب) بہت اوپر جاچکی ہے۔ نوجوان اب عام طور پر شادی نہیں کرتے۔ ۲۰۰۷ء میں نوبیاہے شادی شدہ جوڑوں میں دولہا کی متوسط عمر ۳۶ سال ۵ ماہ اور دلہن کی عمر ۳۳ سال ۷ ماہ تھی۔ ۱۹۹۱ء میں پہلی شادی کے موقع پر مرد کی متوسط عمر ۲۸ سال اور خاتون کی عمر ۲۶ سال تھی۔ شادیوں کی شرح میں غیر معمولی انحطاط واضح کرنے کے لیے صرف یہی بات نہیں، (بلکہ اس کے علاوہ یہ بھی ہے)، کہ ۱۹۸۰ء میں انگلستان اور ویلز میں ایک ہزار مردوں میں سے ساٹھ اور ایک ہزار خواتین میں سے ۴۸ نے شادی کی۔ ۱۹۹۱ء میں یہ
[1] یہ اضافہ ایک ہزار فی صد سے بھی زیادہ ہے۔ [2] "The Death of the West" p.42. اقتباس کے الفاظ درج ذیل ہیں: "The success of the feminist ideas has had consequences for our country. They may by seen in the 1,000 percent increase in the number of unmarried couples living together in the United States from 523,000 on 1970 to 5.5 million today." [3] "The Death of the West" p.42. اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "The 2000census also reports that, for the first time in our history, nuclear families account for fewer than one in four households, while single Americans who live alone are now 26 percent of all households. Marriage is out of fashion."