کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 261
رہنا ایک اچھی سوچ ہے۔ سارے امریکیوں میں سے کم و بیش نصف لوگوں نے اس فکر کو ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے (اور وہ یہ ہے): ہم میں سے قریباً آدھے لوگ کہتے ہیں: ’’شادی، کبھی بھی کرنے کی، کوئی معقول وجہ نہیں۔‘‘[1] شیخ ابن عاشور اسلام کے زنا کو حرام کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’وَلِأَنَّ فِیْہِ تَعْرِیْضَ الْمَرْأَۃِ إِلَی الْإِھْمَالِ بِإِعْرَاضِ النَّاسِ عَنْ تَزَوُّجِہَا۔‘‘[2] [کیونکہ اس [یعنی زنا] میں عورت کو بے کار [چیز] بنا دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ اس کے ساتھ نکاح سے منہ موڑ لیتے ہیں۔] ب: شادی سے اعراض کے متعلق مغربی دنیا کے اعدادو شمار: مغربی دنیا کے بارے میں شائع شدہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے، کہ ان میں شادی کرنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہے اور اس کمی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ذیل میں اس بارے میں قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیے: ۱: پیری گلموٹ (Pierre Guilmot) نے پہلی مرتبہ شادی کرنے والے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ دو چارٹوں کے ذریعہ واضح کیا ہے۔ ذیل میں وہ دونوں چارٹ ملاحظہ فرمائیے:
[1] "The Death of the West" p.13 اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "And if you can also have sex and not babies … and this seems to be true now of Catholic Italy as it is of secular Britain… why marry?" [2] [The Day America Told the Truth] P.87. اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "One thing was clear in our interviews. Fewer men and women believe the institution of marriage as the way to define what happens between them. Love can be defined in other ways nowadays. Living together has gained acceptance with a majority of Americans (over 50 percent)."