کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 255
ناجائز بچوں کی صحت و تعلیم کی پستی اور شخصیت کا بگاڑ: شادی کے دائرہ سے باہر جنم لینے والے بچوں کے مسائل بہت پیچیدہ اور گھمبیر ہوتے ہیں۔ ان کی کفالت کون کرے؟ ان کی صحت و تعلیم کے لیے کون فکر مند ہو؟ ان کی حرکات و سکنات پر کون نظر رکھے؟ انھیں وہ سچا پیار کون دے، جو ہر بچے کا حق ہے؟ صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے کون ان کی راہنمائی کرے؟ کیا وہ زانی باپ، جس نے اپنی جنسی خواہش پوری کرلی ہو اور اب اس کے سوا اور کوئی سروکار نہیں، کہ کسی نئے شکار سے اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرے؟ یا ایسے بچوں کے لیے بدکار ماں فکر کرے گی، جس کا بنیادی قصد و ارادہ یہ تھا، کہ اس کے پیٹ میں حمل قرار نہ پائے اور جس نے اپنے رحم میں حرکت محسوس کرتے ہی اپنی ساری کوششیں اسے ختم کرنے میں صرف کردیں؟ کیا یہ عقل کی بات ہے، کہ ایسی ماں کے بارے میں یہ تصور کیا جائے، کہ وہ چاہت اور شدید کوشش کے برعکس پیدا ہونے والے بچے کی تربیت اسی طرح کرے گی، جیسے کہ ایک مہربان ماں کرتی ہے؟ بلاشک و شبہ ایسی ماں کی اوّلین کوشش یہ ہوگی، کہ وہ اسے قتل کرکے یا کسی پناہ گاہ میں پھینک کر، اس سے نجات حاصل کرے، تاکہ وہ اس کی نئی محبت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ اس بارے میں ایک مفسر کا بیان اور مغربی دنیا کے حوالے سے تین اقتباسات ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:
[1] رپورٹ کے الفاظ درجِ ذیل ہیں: "The District of Columbia and Mississippi had the highest rates of out-of-wedlock births in 2007: 59 percent and 54 percent, respectively." [2] تیار کنندہ: جیسیا راوٹز(Jessica Ravitz) ۔ رپورٹ کے الفاظ ذیل میں ملاحظہ فرمائیے: "Nearly 40 percent of babies born in the United States in 2007 were delivered by unwed mothers, according to data released last month by the National Center for Health Statistics. The 1.7 million out-of-wedlock births of 4.3 million total births, marked a more than 25 percent jump from five years before."