کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 250
II: شکاگو کے اخبار ٹریبون نے اپنے مورخہ ۶ ستمبر ۱۹۷۹ء کے شمارے میں لکھا ہے، کہ ۱۹۷۸ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی تعداد سات لاکھ اسّی ہزار تھی۔ III: انیس صنعتی ملکوں میں نوعمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے اور غیر شرعی بچوں کے جنم دینے میں امریکہ کے پہلے نمبر پر ہونے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انڈریو ایل۔ شیپائر لکھتے ہیں: ’’ہر سال چودہ برس یا اس سے کم عمر کی امریکی لڑکیاں دس ہزار سے زیادہ بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔‘‘[1] تبصرہ: یہ صورت حال بیس سال قبل (۱۹۹۲ء میں) شائع ہونے والی کتاب کے مطابق تھی۔ اب حالات کیا ہیں؟ اُمید ہے کہ آئندہ صفحات میں منقول اقتباسات ان کا تصور کرنے میں ان شاء اللہ راہنمائی کریں گے۔ IV: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتِ حال بد سے بدتر ہورہی ہے۔ مورخہ ۱۱ اپریل ۲۰۱۰ء کو درجِ ذیل عنوان کے تحت ایک رپورٹ شائع ہوئی:
[1] "The Family: From Traditional to Companionship" p:108. [کنبہ: روایتی (حیثیت) سے دوستی تک] یہاں تین باتوں کی طرف اشارہ شاید مناسب ہو: ۱: ناجائز بچوں کی یہ بہت بڑی تعداد ان تمام کوششوں کے بعد ہے، جو مادہ منویہ کے ضائع کرنے اور حمل ضائع کرنے کی خاطر کی جاتی ہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار [الشرق الأوسط] کی ۱۸ فروری ۱۹۷۹ء کی اشاعت میں ذکر کیا گیا: امریکہ میں ہر سال دس لاکھ سے زیادہ حمل گرانے کے واقعات ہوتے ہیں۔ (بحوالہ الأمان لبنان ۱۶ شوال ۱۳۹۹ھ ص ۳۶) [اس بارے میں مزید معلومات اس کتاب کے۲۸۶۔ ۲۸۹ ملاحظہ فرمائیے) ۲: مذکورہ بالا نقشہ دیکھ کر یہ خیال نہ کیا جائے، کہ گورے کالوں سے زیادہ پاکیزہ ہیں، کہ ان کے ہاں ناجائز بچوں کی شرح کم ہے۔ اس قلت کا شاید سبب یہ ہے، کہ وہ کالوں کی نسبت منع حمل کے اسباب و وسائل سے زیادہ آگاہ ہیں اور انھیں یہ چیزیں دوسروں کی نسبت زیادہ میسر ہیں۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ ۳: ۱۹۶۰ء سے کالوں کے مقابلے میں گوروں میں ناجائز بچوں کا تناسب کافی زیادہ ہے۔ مذکورہ بالا کتاب ہی میں ہے: "However, the relative increase since 1960 has been much greater for whites than for Negroes." (P.108)