کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 248
لیور پول (Liverpool) کے نزدیک واقع نوزلی (Knowsley) میں ۲۰۰۷ء میں ۵۔۶۸ فیصد بچے شادی کے بغیر پیدا ہوئے۔(اس بارے میں یہ) ملک کی بلند ترین شرح تھی۔یہ تعداد بڑھ کر ۲۰۱۴ء میں ۷۵ فی صد ہوجائے گی۔ ہارٹ لی پول (Hartlepool) میں یہ تعداد ۱۔۶۸ فی صد، ہل (Hull) میں ۶۷ فیصد اور بلیک پول (Blackpool) میں ۹۔۶۶ فی صد رہی۔‘‘[1] اس صورت حال کے بارے میں سابق ہوم آفس منسٹر این ودی کومب (Ann Widdecombe) نے کہا: ’’یہ (صورتِ حال)خطرناک حد تک پریشان کن ہے۔ میرے خیال میں شادی بے وقعت ہوچکی ہے، کیونکہ (شادی شدہ) لوگ شادی کے بندھن کا احترام نہیں کرتے اور اسی لیے دوسرے (یعنی غیر شادی شدہ لوگ) اسے بے کار چیز سمجھتے ہیں۔‘‘[2]
[1] رپورٹ کے اصل الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "The proportion of children born outside marriage in the UK has leapt from 12% in 1980 to 42% in 2004, according to the Office for National Statistics." [2] رپورٹ کے اصل الفاظ درجِ ذیل ہیں: "More than two thirds of children are born out of wedlock in many parts of the country, official figures show. The statistics reveal that the proportion of births to single mothers and unmarried couples is set to exceed 50 percent across Britain over the next five years."