کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 247
سے ۲۰۰۴ء میں ۴۲% ہوچکا ہے۔‘‘ [1] [The towns where two in three births are outside marriage] ’’(ایسے) شہر جہاں دو تہائی بچوں کی پیدائش شادی (کے دائرے) سے باہر ہوتی ہے۔‘‘ اسی رپورٹ میں ہے: ’’سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے متعدد حصوں میں دو تہائی سے زیادہ بچے شادی شدہ جوڑوں سے باہر پیدا ہوتے ہیں۔ اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے، کہ آئندہ پانچ سالوں میں سارے برطانیہ میں تنہا ماؤں اور غیر شادی شدہ جوڑوں کے ہاں جنم لینے والوں بچوں کی شرح ۵۰ فیصد سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔‘‘[2] ’’دفتر قومی اعداد و شمار کے مطابق بعض حصوں میں بچوں کا شادی شدہ جوڑوں سے باہر پیدا ہونا معمول کی بات بن چکی ہے۔
[1] منقول از: کتاب [الإسلام عقیدۃ وشریعۃ] شیخ محمود شلتوت، ص ۱۹۳۔ [2] کتاب: [فلسفۃ الجنس] (The philosophy of Sex) بحوالہ: [کتاب حرکۃ تحدید النسل] ص ۲۷۔