کتاب: زنا کی سنگینی اور اس کے برے اثرات - صفحہ 246
۱۹۰۱ء میں فرانس میں اس بات کی تحقیق کے لیے کانفرنس منعقد ہوئی، کہ زنا کو روکنے کے لیے بہترین طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ اسی کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا: ’’صرف صوبے سین کی پناہ گاہوں میں جمع کیے گئے حرامی بچوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔ بعض اہل کار اپنی زیر نگرانی لڑکیوں کے ساتھ بھی زنا کرتے ہیں اور یہ حرامی بچے آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بدکاری کرتے تھے۔‘‘[1] ج: انگلستان: I: ڈاکٹر اوس والڈ شوارز (Oswald Schwarz) نے تحریر کیا ہے: ’’انگلستان میں ہر سال قریباً اسّی ہزار عورتیں حرامی بچوں کو جنم دیتی ہیں، جو کہ پیدا ہونے والے تمام بچوں کی مجموعی تعداد کا قریباً ایک تہائی حصہ ہے۔‘‘[2] News) نیوز یو۔ کے۔ سے حسبِ ذیل عنوان کے تحت ایک رپورٹ نشر کی گئی: [Births out of wedlock pass 40%] [دائرہ شادی سے باہر شرحِ پیدائش کا ۴۰ % سے تجاوز] اسی رپورٹ میں ہے: ’’قومی اعداد و شماریات کے دفتر کے مطابق دائرہ شادی سے باہر پیدا ہونے والے بچوں کا مملکت متحدہ (برطانیہ) میں تناسب ۱۹۸۰ء میں ۱۲%
[1] "Population Decline In Europe" P:11-12. اقتباس کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں: "In 1972, one birth in four in Sweden was illegitimate and unmarried couples with children are by no means exceptional. The proportion of children born out of wedlock would appear therefore to be increasing." [2] "Population Decline In Europe" P.9. اقتباس کے الفاظ قریباً حسبِ ذیل ہیں: The proportion of illegitimate births is about 1 in 4 in Iceland. [3] جب ناجائز بچے ان کے ہاں [طبعی بچے] ہیں، تو کیا شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے ان کے نزدیک [غیر طبعی] ہوں گے؟ [4] منقول ازکتاب [حقوق الانسان في الإسلام] ڈاکٹر عبد الواحد وافی ص ۱۵۹۔