کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 395
دروازوں کے سامنے پھینک دیتی ہے تاکہ حرامی بچوں کا مسئلہ مزید سنگین صورتِ حال اختیار کرجائے۔ ان حالات میں یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اعداد و شمار کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تمام پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کے ایک چوتھائی حصے تک پہنچ گئی ہے بلکہ بعض ممالک میں یہ تعداد ایک تہائی تک پہنچ گئی ہے، ان ممالک میں طلاق کی شرح بھی شادی کی شرح کے برابر ہے اور پھر ان ممالک میں آبادی کی شرح کم ہورہی ہے، جس کی وجہ سے اس مسئلہ کے جائزہ کے لیے انھوں نے کئی سیمینارذ منعقد کیے، جو ان کے وجود کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے … اس کے علاوہ ایسے اور بھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں، جو اس کتاب میں بیان کی جاچکی ہیں۔
ان افسوس ناک حقائق کی روشنی میں، جو لوگ اللہ کے رستے سے بہت دُور بھٹک گئے ہیں، اس کے بغیر چارہ کار نہیں … اگر وہ عفت و طہارت چاہتے ہوں … کہ وہ ان تدابیر کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کریں، زنا کے خاتمہ کے لیے اسلام نے جنھیں مقرر کیا ہے۔ ان تدابیر کے مطابق عمل پیرا ہونے سے معاشرتی فضا آلودگیوں سے پاک ہوسکتی، خاندان سعادت کی زندگی بسر کرسکتا اور معاشرہ امن، چین اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو اس دین کی اتباع کی توفیق بخشے، جسے اس نے اپنے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اور ہمیں اخلاص کی توفیق سے نوازے، بے شک وہی دعاؤں کو سننے اور شرفِ قبولیت سے سرفراز فرمانے والا ہے۔
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلیٰ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ وَآخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔