کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 394
اسلام نے زنا سے بچانے کے لیے پیش کی تھیں … انھوں نے اپنے منہ مغرب کی طرف کرلیے ہیں، اس غلط گمان کے پیش نظر کہ عورت کی بے حجابی و بے پردگی، مردوں کے ساتھ اس کا اختلاط اور گھر سے باہر نکل کر اجنبی مردوں کے ساتھ مل کر اس کا کام کرنا اور اس طرح کے دیگر امور تہذیب کی علامت، ترقی کی نشانی اور باعث افتخار ہیں۔ یہ لوگ زنا سے بچانے والی اسلامی تدابیر کو اندھی آنکھ سے دیکھتے اور نہیں بدویت کی علامت، پس ماندگی کی نشانی اور باعث ذلت و رسوائی قرار دیتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ وہ انھیں بصارت اور بصیرت سے نوازے تاکہ ان کے سامنے بھی یہ بات واضح ہوجائے کہ اسلام کی پیش کردہ یہ تدابیر حق ہیں اور انھیں ناپاک اور پاک میں فرق کرنے کا شعور حاصل ہوجائے۔ ہم بہت حسرت کے ساتھ یہ سوال پوچھیں گے کہ جن لوگوں نے مغرب کو کعبہ بنا رکھا ہے کیا انھیں اس بات کا شعور ہے کہ اپنے اس طرزِ عمل سے وہ اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بچوں کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ یہ لوگ جو ذرہ بھر نہیں سمجھتے، کیا انھوں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ مغرب کن مصائب میں مبتلا ہے اور کس معاشرتی خرابی اور تباہی و بربادی سے دوچار، قبل اس کے کہ یہ لوگ تباہی و بربادی کے رستے کے آخری کنارے پر پہنچ جائیں، ہم انھیں یاد دلائیں گے کہ مغرب آج بے پناہ مشکلات میں مبتلا ہے، مغرب میں بسنے والوں کی بیٹی جس کے ساتھ چاہتی ہے چلی جاتی ہے، جتنا عرصہ چاہے گھر سے غائب رہتی ہے بلکہ دوشیزہ ہونے کے باوجود گھر سے باہر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رات بسر کرتی ہے اور اس کے والدین یا بھائی اس پر اعتراض نہیں کرسکتے، مغرب میں لڑکی زنا کے نتیجہ میں حاملہ ہوجانے کو بھی معیوب نہیں سمجھتی، جب کہ اس نے ابھی عمر کے بارھویں سال کی دہلیز پر ہی قدم رکھا ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے نومولود بچے کو عام شاہراہوں یا چرچوں کے