کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 390
انھوں نے ایک عورت کی طرف دیکھنا شروع کیا تھا، [1] بہرحال اسلامی شریعت نے مردوں کو غض بصر کا اور عورتوں کو حجاب اور پردے کا حکم دیا ہے تاکہ شہوتیں برانگیختہ نہ ہوں اور معاشرے کی پاکیزہ اسلامی فضا برقرار رہے۔ [2]
۳۶۔ اجنبی عورت کو چھونے سے اجتناب کا حکم:
اسلامی شریعت نے عورتوں کے مردوں کے ساتھ اختلاط کو حرام قرار دیا ہے، اس نے جس طرح عورتوں کو اختلاط کے مقامات سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح مردوں کے بھی اجنبی عورتوں کے چھونے کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس سے شہوتیں بھڑکتی ہیں۔ امام طبرانی نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سر پر لوہے کی سوئی ماری جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ [3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوتے تھے۔
[1] امام مسلم نے عبداللہ بن ہبس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ خاندان خثعم کی ایک عورت آئی اور فضل نے اس کی طرف اور اس نے فضل کی طرف دیکھنا شروع کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے کو دوسری طرف ہٹادیا۔ (صحیح مسلم ۲/ ۹۷۳) امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ یہ بالفعل منع اور انکار ہے۔ (روضۃ المحبین، ص ۱۰۲).
[2] مردوں کو بھی غص بصر کا حکم دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ۔ (سورۃ النور، آیت:۳۱) … (اور مومنات سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نظریں نیچی کرلیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں؟ ).
[3] مجمع الزوائد ۴/ ۳۲۶، حافظ ہیثمی نے اس حدیئث کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے امام طبرانی نے روایت کیا اور اس کے رجال، صحیح کے رجال ہیں (حوالہ مذکور ۴/ ۳۲۶) نیز دیکھئے:کتاب النسائیات من الاحادیث النبویۃ الشریفۃ، شیخ محمد صالح فرخوری، ص ۵۱ (طبع دار الامام ابی حنیفہ، طبع دوم ۱۳۹۸ھ).