کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 387
مطلب دوم
وہ آداب جن کی مردوں کو پابندی کرنا لازم ہے
۳۴۔ تمہید
۳۵۔ نظر نیچی رکھنے کا حکم
۳۶۔ اجنبی عورت کو چھونے سے اجتناب کا حکم
۳۴۔ تمہید:
اسلامی شریف نے عورت سے بعض اسلامی آداب کو ملحوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کا باہر نکلنا شہوتوں کو بھڑکانے اور پاکیزہ اسلامی فضا کو خراب کرنے کا سبب نہ بنے مگر یہ عظیم مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا، جب تک مرد بھی کچھ معین اسلامی آداب کو اپنا کر اپنا کردار ادا نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس مطلب میں ہم وہ دو قسم کے اسلامی آداب بیان کریں گے، جنھیں ملحوظ رکھنا مردوں کے لیے واجب ہے اور وہ ہیں نظر نیچی رکھنا اور اجنبی عورتوں کے چھونے سے اجتناب کرنا۔
۳۵۔ نظر نیچی رکھنے کا حکم:
اسلامی شریعت اس بات کی خواہش مند ہے کہ عورتیں اجنبی مردوں کے سامنے زینت کا اظہار نہ کریں، تاکہ اس کے اظہار کی صورت میں بھڑکنے والی خواہشوں کو روکا جاسکے، اسی مقصد کی خاطر عورتوں کو پردے اور حجاب کااور مردوں کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [1] ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
[1] شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب شارع کسی چیز کا حکم دے تو اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ دوسرے کو بھی اس کے ساتھ اس کے مطابق عمل کا حکم دیا جاتا ہے، جب عورتوں کو حجاب اور پردے کا حکم دیا گیا، تو واجب تھا کہ مردوں کو بھی غرض بصر کا حکم دیا جاتا اور پھر تہذیب نفوس تو غض بصر ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۱۲۶).