کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 386
ایک قابل اعتماد مسلمان ہو یا عورتوں کی ایک جماعت ہو یا آزاد بااعتماد مسلمان عورت ہو یا عادل لوگ ہوں، تو قابل غور بات یہ ہے کہ اگر سفر حج کے لیے یہ شرط ہے، تو مسلمان عورت کو اس بات کی کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے نام سے جہاں چاہے اکیلی چلی جائے یا سیر و سیاحت کے نام سے اکیلی سفر کرتی رہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہد شوہر کو حکم دیا کہ وہ جہاد ترک کردے اور حج کا ارادہ کرنے والی اپنی بیوی کے ساتھ چلا جائے تاکہ وہ اپنے سفر میں محرم کے بغیر نہ ہو۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عورت کے امین مردوں اور عورتوں کی صحبت میں سفر سے متعلق ہم نے ائمہ کرام کا جو اختلاف ذکر کیا ہے، اس کا تعلق اس سفر سے ہو، جو فریضہ حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے ہو اور اگر سفر ان دونوں کے سوا کسی اور مقصد کی خاطر ہے، تو امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض نے کہا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حج و عمرہ کے سوا کسی اور مقصد کے لیے سفر بغیر محرم نہ کرے، صرف دار الحرب سے ہجرت کے لیے سفر اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر محرم ساتھ نہ بھی ہو تو وہ تنہا دار الاسلام کی طرف ہجرت کرسکتی ہے۔ [1]
[1] شرح النووی ۹/ ۱۰۴۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف نہیں ہے کہ ایسا سفر جو فرض نہ ہو، عورت شوہر یا محرم کے بغیر نہیں کرسکتی۔ سوائے اس عورت کے جو کافر ہو اور وہ دار الحرب میں مسلمان ہوگئی ہو یا قیدی ہو اور اس نے قید سے نجات حاصل کرلی ہو۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بغوی رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر ائمہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یا وہ عورت جو ساتھیوں سے بچھڑگئی ہو اور اسے کوئی قابل اعتماد شخص مل جائے، تو اس کے لیے اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے حتی کہ وہ اسے اس کے ساتھیوں تک پہنچادے۔ (فتح الباری ۴/ ۷۶).