کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 385
ابن سیرین، امام مالک، اوزاعی اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محرم حج کے لیے قطعاً شرط نہیں ہے، ابن سیرین کہتے ہیں کہ وہ کسی قابل اعتماد مسلمان کے ساتھ حج کے لیے چلی جائے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عورتوں کی جماعت کے ساتھ چلی جائے، امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کسی آزاد اور قابل اعتماد عورت کے ساتھ چلی جائے، امام اوزاعی نے کہا ہے کہ عادل لوگوں کے ساتھ چلی جائے اور اپنے ساتھ ایک سیڑھی لے جائے، جسے اترنے اور چڑھنے کے لیے استعمال کرے اور کوئی مرد اس کے قریب نہ آئے، البتہ وہ اونٹ کے سر کو پکڑلے اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھ دے۔ [1] ملحوظ خاطر رہے کہ جن ائمہ نے محرم کے بغیر عورت کے لیے سفر کی اجازت دی ہے، انھوں نے شرط عائد کی ہے کہ وہ امین لوگوں کی [2] کی صحبت میں سفر کرے،
[1] حوالہ مذکور.
[2] ہمارا میلان اگرچہ اسی قول کی طرف ہے، جو امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا ہے کہ محرم کے بغیر عورت سفر حج کے لیے نہ جائے کیونکہ اس بارے میں واضح حدیث موجود ہے۔ ابن منذر کہتے ہیں کہ انھوں نے ظاہر حدیث کے ساتھ قول کو ترک کردیا ہے اور ہر ایک نے ایسی شرط عائد کی ہے کہ جس کے بارے میں اس کے پاس دلیل نہیں ہے۔ (المغنی ۳/ ۲۳۷) شیخ محمد ابوزھرہ نے لکھا ہے کہ سفر حج کرنے والی عورت اگر محرم یا شوہر کی رفاقت کے بغیر سفر کرے، تو اس کے بارے میں ایک ہی قول ہے کہ وہ نفقہ کی مستحق نہیں ہے کیونکہ یہ نافرمان ہے کیونکہ عورت کے لیے محرم یا شوہر کی رفاقت کے بغیر سفر کی اجازت نہیں ہے اور یہ بات بھی جواز نہیں بن سکتی کہ سفر فریضہ حج کے ادا کرنے کے لیے ہو کیونکہ حج بشرط استطاعت ہی فرض ہے اور اسے استطاعت صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے، جب اس کے ہمراہ کوئی محرم یا شوہر ہو (مأخوذ از کتاب:’’ محاضرات فی عقائد الزواج وآثارہ ‘‘، شیخ محمد ابوزھرہ، ص ۳۰۳) مستقل کمیٹی برائے بحوث علمیہ و افتاء کا فتویٰ ہے کہ حج کی شرائط میں سے استطاعت بھی ہے اور استطاعت میں سے عورت کے لیے محرم کا وجود بھی ہے، اگر محرم نہ ہو تو اس کے لیے سفر جائز نہیں ہے اور اس کے لیے حج اسی صورت میں واجب ہے کہ محروم موجود اور وہ سفر میں اس کا ساتھ بھی دے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا (………… ………………………) (۱۱/ ۹۳ نیز دیکھئے:فتاویٰ شیخ محمد صالح عثیمین ۲/ ۵۹۰۔ ۵۹۷، ط:دار عالم الکتب، ریاض، طبع اوّل ۱۴۱۱ھ.