کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 379
بچے نے آپ کے پیچھے صف باندھ لی اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی، آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر نماز سے فراغت کے بعد تشریف لے گئے۔[1] اسلامی شریعت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ عورتوں کی سب سے بہترین صف وہ ہے، جو مردوں کی صف سے زیادہ دور ہو۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مردوں کی بہترین صف پہلی ہے اور بدترین آخری اور عورتوں کی بہترین صف آخری ہے اور بدترین پہلی۔ [2] مومن عورتیں اس بات کی شدید خواہش مند تھیں کہ وہ طواف کے وقت مردوں کے ساتھ اختلاط نہ کریں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ عطاء نے مجھے بتایا کہ جب ابن ہشام [3] نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کردیا تو انھوں نے کہا کہ وہ عورتوں کو کیسے منع کرتے ہیں، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا؟ میں نے پوچھا:حجاب کے بعد یا اس سے پہلے؟ انھوں نے جواب دیا:میری عمر کی قسم! میں نے اسے حجاب کے بعد دیکھا ہے، میں نے کہا:وہ مردوں کے ساتھ اختلاط کیسے کرتی تھیں، انھوں نے کہا،
[1] مصنف عبدالرزاق ۲/ ۴۸، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے مختصراً روایت کیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح البخاری ۲/ ۳۵۲ اور اس پر انھوں نے عنوان یہ قائم کیا ہے:باب صلاۃ النسآء خلف الرجال (حوالہ مذکور ۲/ ۳۵۲) نیز انھوں نے یہ عنوان بھی قائم کیا ہے:باب المرأۃ وحدھا تکون صفًا (حوالہ مذکور ۲/ ۲۰۲). [2] صحیح مسلم ۱/ ۳۲۶. [3] ابن ہشام سے مراد ابراہیم بن ہشام یا اس کا بھائی محمد بن ہشام ہے، جو ہشام بن عبدالملک کے ماموں ہیں، ہشام نے محمد کو مکہ کا امیر مقرر کیا تھا اور اس کے بھائی ابراہیم کو مدینہ کا، ہشام نے اپنے دورِ خلافت میں ابراہیم کو امیر حج مقرر کردیا تھا، ابراہیم نے منع کیا کہ جب مرد طواف کر رہے ہوں، تو اس وقت عورتیں طواف نہ کریں۔ (فتح الباری ۳/ ۴۸۰).