کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 368
اس کی حرمت میں کسی بھی عاقل اور غیرت مند مسلمان کو شک نہیں ہوسکتا۔ [1]
مذکورہ بالا گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ عورت کے چہرے کے پردے کے وجوب کے قائل نہیں ہیں، وہ اسے ننگا رکھنے کے لیے دو شرطیں عائد کرتے ہیں(۱)چہرہ کھلا رکھنے سے فتنہ کا خوف نہ ہو۔(۲)چہرے پر میک اپ نہ کیا گیا ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ عورت کے چہرے کے ننگا ہونے سے فتنہ کے رونما ہونے کی کون ضمانت دے سکتا ہے کیونکہ چہرہ ہی تو حسن و جمال کا مظہر ہے، شہوتوں اور فتنوں کو بھڑکانے کے لیے صرف چہرہ ہی کافی ہے۔ [2]
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ چادر یا دوپٹے کا کپڑا اس قدر باریک نہیں ہونا چاہیے، جس سے جسم نظر آئے کیونکہ اس سے تو چادر کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ امام ابوداؤد نے دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قباطی چادریں آئیں، تو آپ نے ان میں سے ایک چادر مجھے بھی عطا کی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کرلو، ایک کے ساتھ اپنی قمیص بنالو اور دوسرا اپنی بیوی کو دوپٹے کے لیے دے دو، جب انھوں نے پشت پھیری تو آپ نے فرمایا کہ اپنی بیوی کو حکم دو کہ وہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگالے، جس کی وجہ سے اس کا جسم نظر نہ آئے۔ [3] علامہ شمس الحق
[1] حجاب المرأۃ المسلمۃ، شیخ محمد ناصر الدین البانی، ص ۲۳، طبع دار مرجان للطباعۃ.
[2] بعض لوگ کہتے ہیں کہ فقہاء کا مشہور قول یہ ہے کہ آزاد عورت چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے سوا ساری کی ساری پردہ ہے، لہٰذا آزاد عورت اجنبی لوگوں کے سامنے اپنے چہرے کو ننگا رکھ سکتی ہے لیکن امام ابن قیم رحمہ اللہ اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ کا تعلق نماز سے ہے، دیکھنے سے نہیں، پردہ کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) ایک دیکھنے کے اعتبار سے اور (۲) نماز کے اعتبار سے، آزاد عورت چہرے اور دونوں ہاتھوں کو ننگا رکھ کر نماز پڑھ سکتی ہے لیکن وہ بازاروں اور لوگوں کے مجمعوں میں اس طرح نہیں جاسکتی۔ واللہ أعلم۔ (اعلام الموقوعین عن ربّ العالمین ۱/ ۶۱).
[3] سنن ابی داؤد مع عون المعبود ۴/ ۱۱۰.