کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 366
بہت سی احادیث سے بھی ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابیات … رضوان اللہ علیہن … اپنے چہروں کو چھپایا کرتی تھیں مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر عورتوں پر رحم فرمائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا:وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلیٰ جُیُوْبِھِنَّ(اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں)تو انھوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر ان سے اپنے چہروں کو چھپالیا۔ [1] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ فَاخْتَمَرْنَ کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اپنے چہروں کو چھپالیا، [2] اسی طرح وہ حدیث جسے حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں تھیں، جب وہ ہمارے قریب آتے، تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر پر چادر کو لٹکا کر چہرے پر ڈال رہتی اور جب قافلے گزرجاتے، تو ہم چہروں کو ننگا کرلیتی تھیں، [3] نیز وہ حدیث جسے امام حاکم رحمہ اللہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ہم مردوں کی وجہ سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیتی اور احرام سے پہلے کنگھی کرلیا کرتی تھیں۔ [4] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ صحیح حدیث میں ہے کہ محرم عورت
[1] صحیح البخاری ۸/ ۴۸۹. [2] فتح الباری ۸/ ۴۹۰. [3] المسند ۶/ ۳۰، سنن ابی داؤد مطبوع مع عون المعبود (ط:دار الکتب العلمیۃ) ۵/ ۲۰۱، سنن ابن ماجہ (ط:بتحقیق د/ اعظمی ۲/ ۱۶۳، اس حدیث کی سند کو شیخ زھیر شاویش اور شیخ شعیب ارناؤوط نے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:حاشیہ شرح السنہ ۷/ ۲۴۰). [4] المستدرک علی الصحیحین ۱/ ۴۵۴، امام حاکم نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور شیخین کی شرط کے مطابق ہے البتہ انھوں نے اسے بیان نہیں کیا۔ (حوالہ مذکور ۱/ ۴۵۴) حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ان کی تائید کی ہے۔ (دیکھئے:التلخیص ۱/ ۴۵۴).