کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 364
(اور اپنے پاؤں(ایسے طور سے زمین پر)نہ ماریں کہ(جھنکار کانوں میں پہنچے اور)ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔)
قاضی ابوالسعود فرماتے ہیں کہ آنکھ ننگی رکھنے کی ممانعت کے بعد زیور کی آواز کے نمایاں کرنے کی ممانعت سے زجر و توبیخ میں اس قدر مبالغہ ہے، جو مخفی نہیں۔ [1]
یہ بات اس حدیث سے بھی واضح ہے، جسے امام مالک و ابوداؤد نے اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ جب ازار کا ذکر ہوا تو انھوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! عورت کے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا:وہ اسے ایک بالشت لٹکالے، اُمّ سلمہ نے عرض کیا:اس سے اس کا جسم ننگا ہوگا، آپ نے فرمایا:وہ ایک ہاتھ تک لٹکالے اور اس سے زیادہ نہ لٹکائے۔ [2] اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا جو یہ قول ہے کہ ’’ اس سے اس کا جسم ننگا ہوگا ‘‘، اس سے بھی واضح ہے کہ پاؤں کے ڈھانپنے کا وجوب مسلمانوں میں ایک مشہور و معروف امر تھا۔ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ اس حدیث پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث عورت کے پاؤں کے چھپانے کی دلیل ہے، حضرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عورتوں کے ہاں یہ ایک امر معلوم تھا۔ [3]، [4]
[1] تفسیر ابی السعود ۴/ ۱۱۱.
[2] الموطأ ۲/ ۹۱۵، سنن ابی داؤد مطبوع مع عون المعبود (ط۔ دار الکتب العلمیۃ) ۱۱/ ۱۱۸، الفاظ موطأ کی روایت کے ہیں، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ فرمائیں:صحیح سنن ابی داؤد ۲/ ۷۷۶).
[3] رسالۃ الحجاب، ص ۱۸ (ط:جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ).
[4] اسلامی شریعت عورت کے لیے حجاب کی کس قدر شدید خواہش مند ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ عورتوں کے لیے طواف قدوم اور لعی میں دونوں سبز ستونوں کے درمیان رمل (تیز تیز چلنا) نہیں ہے، جب کہ مردوں کے لیے ان دونوں مقامات پر رمل ضروری ہے، ابن قدامہ، ابوالقاسم خرقی کے اس قول کہ ’’ عورتوں کا سارا طواف وسعی عام چال ہے ‘‘، کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ عورتوں سے ستر مقصود ہے، جب کہ رمل (تیز تیز چلنا) اور اضطباع (دایاں کندھا اور بازو ننگا رکھنا) میں ستر کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ (المغنی ۳/ ۳۹۴).