کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 359
لوٹتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ [1]
عیدگاہ میں ان کی حاضری سے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم دوشیزگان اور پردہ نشین خواتین کو نکالیں البتہ حائضہ عورتیں نماز سے الگ رہیں۔ [2] شادیوں کی محفلوں میں جانے کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح میں ایک باب کا عنوان یہ قائم فرمایا ہے:باب ذھاب النسآء والصبیان إلی العرس(شادی کے لیے عورتوں اور بچوں کے جانے کا باب)اور اس میں انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ فرحت و مسرت سے کھڑے ہوگئے [3] اور فرمانے لگے کہ ’’ تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو ‘‘[4]، اگر خواتین کا اس محفل میں جانا ناجائز ہوتا، تو آپ انھیں یقینا اس سے منع فرمادیتے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ ترجمہ باب اس لیے قائم فرمایا ہے تاکہ کوئی اسے مکروہ خیال نہ کرے، اس باب کے ذریعے آپ نے اسے بلاکراہت مشروع قرار دیا ہے۔ ‘‘[5] غزوات میں ان کی شرکت کے
[1] عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری از علامہ عینی ۲۰/ ۲۱۸ (طبع محمد امین دمج، بیروت).
[2] صحیح البخاری ۲/ ۳۴۹، یہ اس کے باوجود کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مطلع فرمادیا تھا کہ مسجد کی نسبت گھروں میں ان کی نماز زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ قبل ازیں صفحہ … میں ذکر کیا جاچکا ہے.
[3] حوالہ مذکور ۲/ ۴۶۳۔ ۴۶۴.
[4] اس حدیث میں الفاظ یہ ہیں:قام ممتنًا یعنی آپ نہایت مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہے۔ ممتنًّا کا لفظ مُنَّہْ (میم کے ضمہ کے ساتھ) مأخوذ ہے، جس کے معنی قوتہ کے ہیں یعنی آپ ان کے لیے آپ اور مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوگئے تاکہ ان کے طرزِ عمل پر فرحت و مسرت کا اظہار فرماسکیں۔ ابن بطال نے قابسی سے روایت کیا ہے کہ ممتنًّہ معنی یہ ہیں کہ آپ ان پر احسان فرمانے کی غرض سے کھڑے رہے تھے، گویا راوی نے یہ کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہارِ محبت کے ساتھ ان پر احسان فرمایا۔ (بحوالہ فتح الباری ۹/ ۲۴۸).
[5] فتح الباری ۹/ ۲۴۸.