کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 356
مبحث دوم
عورت کا گھر سے باہر نکلنا
۲۲۔ تمہید:
اسلام دین فطرت ہے، جو تمام حالات اور مختلف کیفیات کو ملحوظ رکھتا ہے، جب اسلام نے یہ قرار دیا کہ عورت کے لیے اصل بات یہ ہے کہ وہ گھر ہی میں رہے، تو اس نے اسے بعض حالات میں گھر سے باہر نکلنے کی بھی اجازت دی ہے، لیکن شیطان اشاعت فاحشہ کے لیے عورت کے باہر نکلنے کو استعمال کرتا ہے، جیسا کہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ عورت پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے، تو شیطان اس کی طرف نظر اُٹھاتا ہے۔ ‘‘[1] یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کے نکلنے کے لیے کچھ آداب اور قیود مقرر کردیئے ہیں تاکہ شیطان کے لیے اشاعت فاحشہ کی خاطر عورت کے باہر نکلنے کو استعمال کرنا ممکن نہ رہے، اسلام نے عورتوں سے ان آداب کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے، جیسا کہ عورتوں کے اپنے گھروں سے نکلنے کے وقت اس نے مردوں سے بھی بعض آداب کی پابندی کا تقاضا کیا ہے۔
[1] اسے امام ترمذی نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سے روایت کیا ہے۔ (جامع الترمذی مع تحفۃ الاحوذی ۲/ ۲۸) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن ترمذی ۱/ ۳۴۳) اس حدیث میں مذکور لفظ ’’ استشراف ‘‘ کے معنی کسی چیز کو دیکھنے کے لیے نظر کے اُٹھانے کے ہیں، معنی یہ ہیں کہ عورت کا نکلنا اور نمایاں ہونا معیوب ہے، جب وہ نکلتی ہے، تو شیطان اس کی طرف بغور دیکھتا ہے تاکہ اس کے ساتھ کسی کو یا کسی کو اس کی وجہ سے گمراہ کردے تاکہ وہ ان دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو فتنہ میں مبتلا کردے۔ (تحفۃ الاحوذی ۲/ ۲۰۸ سے اختصار کے ساتھ مأخوذ).