کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 350
اس کی آنکھ کو پھوڑ دینا حلال ہے۔ [1]
۱۷۔کبوتر کے ساتھ کھیلنے کی حرمت:
اسلامی شریعت بیضاء نے صرف لوگوں کے گھروں میں دیکھنے ہی کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ ہر اس چیز کو بھی حرام قرار دے دیا ہے، جو دوسروں کے گھروں میں جھانکنے کا ذریعہ بنے، مثلاً کبوتر کے ساتھ کھیلنے کو اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جو کبوتر کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ چھتوں پر چڑھتا ہے اور گھروں میں جھانکنے کا موقع پاتا ہے۔ امام ابوداؤد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتری کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا، شیطان، شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔ [2]
امام بخاری رحمہ اللہ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ اپنے خطبہ میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتر کو ذبح کرنے کا حکم دے رہے تھے۔ [3] قاضی شریح کبوتر باز کی شہادت کو جائز قرار نہیں دیتے تھے۔ [4] امام ابن قیم فرماتے ہیں کہ حاکم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے سروں پر کبوتر کے ساتھ کھیلنے والوں کو منع کرے کیونکہ اس سے وہ انھیں دیکھتے اور ان کے پردے کی چیزوں پر جھانکتے ہیں۔ [5]
[1] صحیح مسلم ۳/ ۱۶۹۹، امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح میں ایک باب کا عنوان اس طرح قائم فرمایا ہے کہ ’’ جو شخص لوگوں کے گھروں میں جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے کوئی دیت نہیں ‘‘ (صحیح البخاری ۱۲/ ۲۵۴).
[2] سنن ابی داؤد مع شرح بذل المجہود، جلد ۹، ص ۱۷۷،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (صحیح سنن ابی داؤد ۳/ ۹۳۳).
[3] الادب المفرد، باب ذبح الحمام، حدیث نمبر ۱۳۰۷، ص ۴۲۸ (ط۔ عالم الکتب، طبع دوم ۱۴۰۵ ھ).
[4] بحوالہ الطرق الحکمیۃ، امام ابن قیم، ص ۲۸۲.
[5] حوالہ مذکور.