کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 347
ہے؟ فرمایا:’’ دیور [1] تو موت ہے۔ ‘‘[2] پیغمبر صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے اجنبی عورت کے ساتھ خلوت کی حرمت کے سبب کو بھی بیان فرمادیا ہے، ارشاد ہے:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ کسی ایسی عورت کے پاس خلوت میں نہ جائے، جس کے پاس اس کا کوئی محرم نہ ہو کیونکہ اس صورت میں ان دونوں میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ [3] امام شوکانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حرمت کا سبب ان دونوں کے پاس تیسرا شیطان ہونا اور اس کا حاضر ہو کر انھیں گناہ میں مبتلا کردیتا ہے۔ [4] خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے میمون بن مہران سے فرمایا تھا کہ کسی عورت کے پاس خلوت میں نہ جاؤ خواہ تم یہ کہو کہ میں تو اسے قرآنِ مجید پڑھاتا ہوں۔ [5] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محرم کے بغیر خلوت حرام ہے حتیٰ کہ ایسے جانور کے ساتھ بھی، جو عورت کی خواہش رکھتا اور عورت اس کی خواہش رکھتی ہو، مثلاً بندر، ابن عقیل نے اسے ذکر کیا ہے۔ [6]
[1] (دیور موت ہے) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے دوسرے کی نسبت زیادہ ڈر ہے، اس کے شر کی زیادہ توقع اور اس کا فتنہ زیادہ بڑا ہے کیونکہ اس کے لیے عورت کے پاس پہنچنا ممکن ہے، اجنبی کے برعکس اسے خلوت سے منع نہیں کیا جاتا، ’’ حمو ‘‘ سے مراد باپوں اور بیٹوں کے سوا شوہر کے دیگر رشتہ دار ہیں کیونکہ باپ اور بیٹے تو اس کی بیوی کے محرم ہیں، ان کے لیے خلوت جائز ہے، لہٰذا انھیں موت قرر نہیں دیا جاسکتا۔ (شرح النووی ۱۴/ ۱۵۴). [2] صحیح البخاری ۹/ ۳۳۰. [3] المسند ۳/ ۳۳۹، شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اس حدیث کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ (حاشیہ المسند ۲۳/ ۱۹). [4] نیل الاوطار ۶/ ۱۲۶. [5] مأخوذ کتاب النسآئیات، شیخ محمد صالح فرقوری، ص ۵۰ (طبع دوم ۱۳۹۸ھ). [6] الاختیارات الفقہیۃ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ص ۲۰۱.