کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 344
تین دفعہ(یعنی تین اوقات میں)تم سے اجازت لیا کریں(ایک تو)نماز صبح سے پہلے اور(دوسرے گرمی کی)دوپہر کو جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور(تیسرے)عشاء کی نماز کے بعد(یہ)تین(وقت)تمہارے پردے(کے)ہیں، ان کے(آگے)پیچھے(یعنی دوسرے وقتوں میں)نہ تم پر کچھ گناہ ہے۔) ۱۲۔ اجازت حاصل کرنے کے لیے اصرار نہ کرنا: اجازت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صاحب خانہ آزاد ہو کہ وہ جسے چاہے اندر آنے کی اجازت دے اور جسے چاہے اندر آنے سے منع کردے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَاِنْ لَمْ تَجِدُوْا فِیْہَا اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ہُوَ اَزْکٰی لَکُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ [1]، [2] (اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ(اس وقت)لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو، یہ تمہارے لیے بڑی پلہ بزرگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو، اللہ سب جانتا ہے۔)
[1] سورۃ النور، آیت ۲۷ کا ایک حصہ، نیز دیکھئے مصنف کی کتاب:’’ الاحتساب علی الأطفال ‘‘ ، ص ۱۲۔ ۱۳. [2] امام قتادہ نے کہا ہے کہ بعض مہاجرین نے کہا کہ میں نے ساری زندگی اس آیت کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی مگر ایسا ممکن نہ ہوا کہ میں اپنے کسی بھائی سے اجازت طلب کروں اور وہ مجھے کہے کہ واپس چلے جاؤ اور میں اس آیت کریمہ پر عمل کرتے ہوئے واپس چلا جاؤں اور میں اس بات پر رشک کروں کہ میں نے اس آیت کریمہ کے مطابق عمل کرلیا ہے۔ (بحوالہ تفسیر ابن کثیر ۳/ ۳۸۱).