کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 338
اہم ہے۔ [1]، [2]
کام کے لیے عورت کے گھر سے باہر نکلنے کا اولاد پر جو اثر پڑتا ہے، اس بارے میں ڈاکٹر بیچلر اور ڈاکٹر مارول کی بات سنیئے، وہ کہتے ہیں کہ ’’ والدین اولاد اور قریب البلوغ بچوں کو چھوڑ کرگھر سے باہر کام کے لیے چلے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے کام کاج خود ہی کریں لیکن اس سے گھریلو تعلقات قائم کرنے والی لڑکیوں کی شرح بلند ہو کر ایسے اخلاق باختہ لڑکوں کے قریب پہنچ چکی ہے، دونوں جنسوں میں مساوات کے میدان میں یہ بہت افسوس ناک ترقی ہے، لہٰذا ان حالات میں جنسی بیماریوں کی شرح میں بے حد اضافہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے۔ [3]
یہ ہے وہ نتیجہ جس تک علماءِ مغرب پہنچے ہیں، اب ایک روسی سکالر انٹون فیمیلوف کی بات بھی سنیئے اس نے اپنی کتاب ’’ عورت کی بیالوجی ‘‘ میں کام میں مردوں کے ساتھ عورت کی مشارکت کے سبب بدکاری کے پھیلنے کے انجام سے ڈراتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ سچی بات یہ ہے کہ تمام کارکنوں میں جنسی انارکی کے اثرات نمایاں ہوچکے ہیں اور یہ بے حد خطرناک صورتِ حال ہے، جو اشتراکی نظام کو تباہ و برباد کردے گی، میں تمھیں ایسے ہزاروں واقعات بتاسکتا ہوں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی آوارگی کا مقدی مرض صرف فریب خوردہ کارکنوں ہی میں نہیں بلکہ کارکنوں کے طبقہ کے مہذب
[1] مأخوذ از کتاب الامراض الجنسیۃ، ص ۹۳۔ ۹۴، اختصار کے ساتھ.
[2] اخبار ’’ بالٹی مورسن ‘‘ نے ذکر کیا ہے کہ فوج میں ملازمت کرنے والی خواتین کا اخلاق بے حد گرچکا ہے، اور اس کا سبب فوجیوں کی جنسی شہوت ہے، جو بسااوقات فوج کی ملازمت ترک کرنے پر بھی مجبور ہوجاتی ہیں کیونکہ اپنی فحش گفتگو کے ذریعہ زنا کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور اگر وہ اپنے ادارے کے سربراہ کی خواہش کو پورا نہ کریں، تو ان کی ترقی رُک جاتی ہے۔ (بحوالہ پاکستانی اخبار ’’ مشرق ‘‘، مؤرخہ ۲۱/ ۱۲ / ۱۹۷۹ء ).
[3] بحوالہ کتاب ماذا عن المرأۃ؟ اختصار کے ساتھ، ص ۱۳۰۔ ۱۳۱.