کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 333
سے ہے۔ *
۵۔ کیا عورت کے لیے اپنے گھر ہی میں رہنے کا حکم آدھی انسانیت کو معطل کرنے کے مترادف ہے؟
اکثر یہ شبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ عورت کو گھر ہی میں رہنے کا حکم آدھی انسانیت کو معطل کردینے کے مترادف ہے، حالانکہ یہ محض شبہہ ہی ہے کیونکہ کیا یہ بات حق ہے کہ عورت کو گھر میں رہنے کی وجہ سے معطل سمجھا جائے، جب کہ وہ نسل نو کی تربیت میں مشغول ہو، یاد رہے کہ نسل نو ہی کی اصلاح سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمتوں کی اصلاح کی اُمید کی جاسکتی ہے اور اس کی خرابی سے اُمتیں خراب ہوجاتی ہیں؟ ماؤں کی طرح اس عظیم الشان فرض کو اور کوئی ادا نہیں کرسکتا، نہ معزز مرد اور نہ حکومتی ادارے اور وہ عورت جو گھر سے باہر کام کاج میں مشغول رہتی ہے، وہ تو اس فرض سے بالاولیٰ عہدہ براء نہیں ہوسکتی، اس طرح کی عورت غالباً بچوں کو جنم دینا نہیں چاہتی، کیونکہ بچوں کو جنم دینا گھر سے باہر نکلنے میں رکاوٹ بنے گا، جیسا کہ مغربی عورت نے کام کاج کے لیے گھر سے باہر نکل کر اس عظیم الشان امر کو ترک کردیا، [1] مغربی لوگوں نے اس کمی کو دُور
[1] مغرب میں ماؤں کا بچوں کی تربیت کو ترک کرنا بہت عام ہے، بطورِ مثال اخبار ’’ شرق اوسط ‘‘ کی ایک رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ برطانیہ کے شہر یورپوں کی ایک عدالت نے (اٹھارہ سال کی) جاکلین رونی کو پانچ سال قید کی سزا کا حکم سنایا کیونکہ اس پر الزام تھا کہ وہ اپنے دو سال کی عمر کے بیٹے کی وفات کا سبب بنی ہے۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ جاکلین اپنے بیٹے کو کئی کئی دن کھانا نہیں دیتی تھی کیونکہ وہ اپنی راتیں محفلوں اور رات کے رقصوں میں گزارتی تھی، جس کی وجہ سے گزشتہ مارچ میں اس کا بچہ فوت ہوگیا۔ ماہرین نے بتایا کہ بچے کے مرنے کا جس وقت علم ہوا، وہ اس سے تین سے چھ ایام قبل انتہائی کسمپرسی کے عالم میں فوت ہوا تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ لاغری، بیماری اور بھوک کے اثرات واضح ہونے سے قبل یہ بچہ تندرست اور صحیح سلامت تھا، جب کہ اس کی (کنواری) ماں اپنے اوقات اپنے دوستوں کے ساتھ رات کی محفلوں میں بسر کرنے میں مشغول تھی۔ (منقول از اخبار ’’ شرق اوسط ‘‘ مؤرخہ ۵ / ۱۱ / ۱۹۷۹ء) … معاملہ یہاں تک محدود نہیں کہ بچوں کی تربیت کی خاطر توجہ نہیں دی جارہی بلکہ نوبت بایں جارسید کہ مغرب میں ماؤں نے بچوں کو طرح طرح کی ایذائیں دینا شروع کردی ہیں اور اس کا سبب شاید یہ ہے کہ ماں طویل کام کے بعد شام کو جب واپس لوٹتی ہے، تو وہ بچے کے رونے کو برداشت نہیں کرسکتی وہ اس کے رونے سے ناراض ہو کر اسے طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں پہنچانا شروع کردیتی ہے۔ اخبار ’’ الریاض ‘‘ میں پچھلے دنوں شائع ہوا ہے کہ نیویارک کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ بیس ماہ کی عمر کا ایک بچہ ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں اس وجہ سے مبتلا ہے کہ اس کی ماں نے شیطان کو بھگانے کے لیے اس کے سرپرگرم کھولتا ہوا پانی ڈال دیا تھا.