کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 332
کرنے کو پسند کرتی ہو لیکن تمہاری اپنے گھر میں نماز تمہارے حجرے میں نماز سے سے افضل ہے اور تمہارے حجرے میں نماز صحن میں نماز سے افضل ہے اور تمہاری صحن میں نماز اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے افضل ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز میری مسجد میں نماز سے افضل ہے۔ ‘‘(اس فرمانِ نبوی کے بعد)انھوں نے حکم دیا اور ان کے گھر کے آخری اور اندھیرے گوشے میں ان کے لیے مسجد بنادی گئی، جس میں وہ اپنی زندگی کے آخری دم تک نماز ادا کرتی رہیں۔ [1]
جمعہ کے لیے عورت کی حاضری کے عدم وجوب کی دلیل یہ حدیث ہے، جسے امام ابوداؤد نے طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار اشخاص کے سوا ہر مسلمان کے لیے جمعہ حق اور واجب ہے:(۱)مملوک غلام،(۲)عورت،(۳)بچہ اور(۴)مریض۔ [2]
ان تمام دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ گھر کی پابندی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ حکم تمام مومن عورتوں کے لیے ہے، اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو جو بطورِ خاص مخاطب فرمایا ہے، تو یہ تشریف و تکریم کی وجہ
[1] مسند احمد ۶/ ۳۷۱، حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اسے امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن سوید انصاری کے سوا اس کے دیگر رجال صحیح کے رجال ہیں۔ امام ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد ۲/ ۳۴).
[2] سنن ابی داؤد مع عون المعبود ۳/ ۲۷۷۔ ۲۷۸ (ط۔ دار الکتب العلمیۃ) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ طارق بن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے مگر انھوں نے آپ سے کچھ سننے کی سعادت حاصل نہیں کی۔ (حوالہ مذکور ۳/ ۲۷۹) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ صحابی کی مرسل روایت ہے اور وہ حجت ہے اور پھر یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق بھی ہے۔ (منقول از نصب الرایۃ، امام زیلقی ۲/ ۱۹۹) علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن ابی داؤد ۱/ ۱۹۹، ارواء الغلیل ۳/ ۵۴۔ ۵۸).