کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 331
کے اپنے گھر ہی رہیں اسی لیے عورتوں کے لیے مسجد میں حاضر ہونا بھی ضروری نہیں ہے حتی کہ اسلامی شریعت میں جمعہ کی بے حد اہمیت کے باوجود خواتین کے لیے نمازِ جمعہ کی خاطر مسجد میں حاضری ضروری نہیں ہے، [1] کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورت کی نماز اپنے گھر میں، مسجد میں باجماعت نماز سے افضل ہے اور یہ اس لیے کہ اسلامی شریعت کی یہ شدید خواہش ہے کہ عورت اپنے گھر ہی میں رہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اُمّ حمید ساعدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے ساتھ نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہوں، آپ نے فرمایا:مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز ادا
[1] نماز باجماعت کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ارادہ کرتا ہوں کہ ایندھن اکٹھا کرنے کا حکم دوں، اُسے اکٹھا کیا جائے، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں لوگوں کے پاس جا کر ان کے گھروں کو آگ لگادوں، اس ذات پاک کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہو کہ اسے ایک موٹی بوٹی یا دو اچھی ہڈیاں ملیں گی، تو وہ ضرور نمازِ عشاء میں حاضر ہوگا۔ (صحیح البخاری ۲/ ۱۲۵) حدیث میں لفظ عَرْق عین کے فتحہ اور راء کے سکون کے ساتھ ہے، اس کے معنی گوشت کی بوٹی ہیں، اس موضوع سے متعلق دیگر دلائل کے لیے ملاحظہ فرمائیں، مصنف کی کتاب:’’ أَھمیۃ صلاۃ الجماعۃ فی ضوء النصوص وسیر الصالحین ‘‘ اقامت جمعہ کی اہمیت کے بارے میں امام مسلم نے عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمع چھوڑنے سے باز آجائیں گے یا اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔ (صحیح مسلم ۲/ ۵۹۱) امام ابو داؤد نے ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے سستی سے تین جمعے ترک کردیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادے گا۔ (سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ۱/ ۴۰۷) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ صحیح سنن ابی داؤد ۱/ ۱۹۶).