کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 329
۴۔ کیا گھروں میں قرار پکڑنے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص ہے؟
۵۔ کیا عورت کے لیے اپنے گھر ہی میں رہنے کا حکم آدھی انسانیت کو معطل کرنے کے مترادف ہے؟
۶۔ گھر کے تباہ کرنے اور فتنہ و فساد کے پھیلانے میں عورت کے باہر نکلنے کا اثر۔
۳۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں ہی میں ٹکے رہنے کا حکم دیا ہے:
اسلام دراصل یہ چاہتا ہے کہ عورت اپنے گھر ہی میں رہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی۔ [1]
(اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح(پہلے)جاہلیت(کے دنوں میں)اظہار تجمل کرتی تھیں، اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ اپنے گھروں ہی میں رہو اور بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلو۔ [2] امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو اپنے گھروں ہی میں رہنے کا حکم دیا گیا اور باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔ [3]
[1] سورۃ الاحزاب/ آیت ۳۳ کا ایک حصہ.
[2] تفسیر ابن کثیر ۳/ ۴۸۳، وَقَرْنَ قَرَّ لَقِرُّ از باب عَلِمَ سے امر کا صیغہ ہے، یہ دراصل اَقْرَرْنَ تھا پہلی رأ کو حذف کرکے ماقبل کو مفتوح کردیا گیا، جیسا کہ اَظْلَلْفَ میں ہے یا یہ قَارَ یَقَارُ سے ہے، جس کے معنی جمع ہونے کے ہیں۔ (بحوالہ تفسیر ابی السعود ۴/ ۴۱۶).
[3] احکام القرآن:۳/ ۳۶۰.