کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 323
…………………………………………………………………………………………………۔ ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر قریب بعید پر اللہ تعالیٰ کے حدود کو قائم کرو اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت تمہارے آڑے نہ آئے۔ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود اللہ میں سفارش کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہ06D2 کہ جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں مائل ہوگئی، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ہے۔ 2[2] اقامت حدود کی بہت بڑی اہمیت کے پیش نظر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کے لیے امارت ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، عرض کیا گیا:اے امیر المؤمنین! نیک امارت کو تو ہم جانتے ہیں، بری امارت کون سی ہوتی ہے؟ فرمایا:جس کے ساتھ درود قائم ہوں، رستے پر امن ہوں، دشمن کے خلاف جہاد کیا جاتا ہو اور مال فیء کو تقسیم کیا جاتا ہو۔ [3] اقامت حدود کی اہمیت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اس قول سے واضح ہوگئی کہ ’’ امارت ضروری ہے خواہ وہ بری ہو ‘‘ تاکہ چار امور معطل نہ ہوں، جن میں سرفہرست اقامت حدود ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس امام کو جو اقامتِ حدود ترک کردے اور اس حکمران کو جو مال کے عوض منکرات کا انکار نہ کرے اور حدود قائم نہ کرے، اس حرامی کو آگے کرنے والے کی طرح قرار دیتے ہیں،
[1] اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے اپنے سنن میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:۲/ ۸۳؛ علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن ابن ماجہ ۲/ ۷۸). [2] اسے امام احمد نے مسند میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ۲/ ۷۰ ؛ شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:حاشیہ مسند ۷/ ۲۰۴). [3] السیاسیۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ، ابن تیمیہ، ص ۷۱۔ ۷۲.