کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 317
مبحث ششم
فحاشی کے پھیلانے کی حرمت
۱۸۔ حرمت کی دلیل۔
۱۹۔ فحاشی کے پھیلانے سے روکنے کے لیے قذف کی شدید سزا
۱۸۔ فحاشی کے پھیلانے کی حرمت کی دلیل:
مشہور بات ہے کہ جب برائیوں کا ذکر کثرت سے ہو، تو کمزور نفوس ان کے ارتکاب کے شائق ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی تردید کے بغیر ان کا ذکر ان کے ارتکاب کی دعوت کے مترادف ہے یعنی فحاشی کے پھیلانے میں فحاشی کے ارتکاب کی دعوت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فحش خبروں کے پھیلانے کو حرام قرار دے دیا ہے اور اس طرح فحاشی کے دروازوں میں سے ایک دروازے کوبند کردیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ [1]
(جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی(یعنی تہمت بدکاری کی خبر)پھیلے اُن کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔)
قاضی ابوالسعود اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس کے پھیلانے سے مراد
[1] سورۃ النور / آیت ۱۹.