کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 306
اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، [1] جیسا کہ شراب نوشی کو آپ نے جرائم درود میں سے قرار دیا ہے، جس کی وجہ سے شرابی کو کوڑے لگائے جاتے، [2] اس پر آپ نے لعنت فرمائی، اس پر آپ نے لعنت فرمائی، جس کا شراب کے ساتھ کوئی بھی تعلق ہو، [3] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستر خوان پر بیٹھنے سے منع فرمادیا، جس پر شراب پیش کی جارہی ہو، [4] اس طرح
[1] شرابی کی نماز کی عدم قبولیت کے بارے میں امام نسائی l نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میری اُمت میں سے جو شخص شراب پیئے گا، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دنوں کی نماز کو قبول نہیں فرمائے گا۔ (سنن نسائی مع شرح سیوطی و حاشیہ سندھی ۸/ ۳۱۴).
[2] شرابی کو کوڑے لگانے کے بارے میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شراب پیئے، اسے کوڑے مارو، اگر وہ چوتھی بار پیئے، تو اسے قتل کردو۔ (جامع ترمذی، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے:صحیح سنن ترمذی ۲/ ۷۲).
[3] شراب کی وجہ سے دس آدمیوں کے مستحق لعنت ہونے کے بارے میں امام احمد نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبریل آئے اور انھوں نے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، جس کے لیے نچوڑی گئی ہو اس پر، اس کے پینے والے پر، اسے اُٹھانے والے پر، جس کے لیے اُٹھائی گئی ہو اس پر، اسے بیچنے والے پر، اسے خریدنے والے پر، اسے پلانے والے پر اور جس کو پلائی جارہی ہو اس پر لعنت فرمائی ہے۔ (مسند امام احمد ۱/ ۳۱۷، شیخ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ حاشیہ مسند ۴/ ۳۲۱).
[4] جس دستر خوان پر شراب پیش کی جارہی ہو، اس پر بیٹھنے کی ممانعت کے بارے میں امام حاکم رحمہ اللہ نے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے، جس پر شراب پیش کی جارہی ہو۔ (مستدرک ۲/ ۲۸۸، اختصار کے ساتھ) امام حاکم l نے اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق قرار دیا ہے۔ (حوالہ مذکور ۴/ ۲۸۸) حافظ ذہبی l نے بھی امام حاکم کی تائید کی ہے۔ (دیکھئے:التلخیص ۴/ ۲۸۸) شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:حاشیہ مسند:۱/ ۲۷۷).