کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 305
لیتا ہے۔ [1]
۱۲۔ شراب کی حرمت کے بارے میں اسلام کی طرف سے سختی:
اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ [2]
(اے ایمان والو! شراب اور جوأ اور بت اور پانسے(یہ سب)ناپاک کام اعمالِ شیطان سے ہیں، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے، [3] اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ شراب کے ساتھ علاج کرنا بھی حرام ہے۔ [4]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کی شدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شرابی جب شراب پیتا ہے، تو اس سے ایمان خارج ہوجاتا ہے، [5] چالیس دن تک
[1] الخمرین الطب والفقہ ص ۵۱، ۷۷ (تصرف کے ساتھ) طبع دار الشروق جدہ.
[2] سورۃ المآئدۃ/ آیت ۹۰.
[3] اس حدیث کو امام ابوداؤد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد مع عون المعبود:۳/ ۳۷۸) علامہ البانی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (صحیح سنن ابی داؤد:۲/ ۷۰۲).
[4] شراب کے ساتھ علاج کی حرمت کے بارے میں امام مسلم نے وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ طارق بن سوید جعفی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس کے بنانے کو حرام قرار دیا۔ اس نے عرض کیا کہ میں اسے دواء کے لیے بناتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ یہ دوأ نہیں بلکہ بیماری ہے۔ (صحیح مسلم ۳/ ۱۵۷۳).
[5] شرابی سے ایمان کے خارج ہونے کے بارے میں امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:زانی جب زنا کرتا ہے، تو وہ مومن نہیں ہوتا، چور جب چوری کرتا ہے، تو وہ مومن نہیں ہوتا اور شرابی جب شراب پیتا ہے، تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم:۱/ ۷۶).