کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 286
’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے زنا کرلیا ہے ‘‘ آپ نے دوبارہ اسے واپس کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم کے لوگوں سے پوچھا:کیا تم اس کی عقل میں کوئی فتور جانتے ہو؟ کیا اس بارے میں تمھیں کوئی بات یاد ہے؟ انھوں نے کہا کہ جہاں تک ہم جانتے اور دیکھتے ہیں، وہ ہمارے عقل مند لوگوں میں سے ہے، وہ آپ کی خدمت میں تیسری بار حاضر ہوا، آپ نے پھر اس کی قوم کے لوگوں کی طرف پیغام بھیج کر اس کے بارے میں معلوم کیا، تو انھوں نے بتایا کہ اس میں یا اس کی عقل میں کوئی خرابی نہیں، جب وہ چوتھی بار آیا تو اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور پھر(اس میں کھڑا کرکے)آپ کے حکم سے اسے رجم کردیا گیا۔ [1] راوی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس غامدیہ بھی آئی اور اس نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے واپس کیوں لوٹارہے ہیں؟ کیا آپ مجھے اسی طرح واپس بھیج رہے ہیں، جیسے آپ نے ماعز کو واپس بھیج دیا تھا، اللہ کی قسم میں تو(زنا سے)حاملہ ہوں ‘‘ آپ نے فرمایا:اب نہیں، [2] اب واپس چلی جاؤ
[1] دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے حکم دیا اور اسے رجم کردیا گیا، اس کے بارے میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے، ایک گروہ کہتا تھا کہ وہ ہلاک ہوگیا اور اس کے گناہ نے اسے گھیرلیا اور دوسرا گروہ کہتا تھا:کیا ماعز کی توبہ سے افضل توبہ کسی کی ہوسکتی ہے؟ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک میں اپنا ہاتھ دے کر عرض کیا کہ مجھے پتھروں کے ساتھ قتل کردو، لوگ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، وہ پھر آیا اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اس نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا:ماعز بن مالک کے لیے بخشش کی دعا کرو، لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ماعز بن مالک کو بخشے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے ایسی سچی پکی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک امت کے لوگوں میں تقسیم کردیا جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو۔ (صحیح مسلم ۳/ ۱۳۲۳۔۱۳۲۴).
[2] حدیث میں الفاظ ہیں:’’ إِلاَّ لَا فَاذْھَبِیْ ‘‘ اِمَّا ہمزہ کے کسرہ اور میم کی تشدید کے ساتھ ہے اور اصل میں یہ اَنَّ مَا تھا، نون کو مدغم کرکے فعل شرط کو حذف کردیا گیا اور یہ إِمَّا لَا بن گیا، اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ اگر تو انکار کرتی ہے کہ اپنے آپ پر پردہ ڈالے اور توبہ کرکے اپنی بات سے رجوع کرلے، تو بچے کو جنم دینے تک واپس چلی جا، اس کے بعد تجھے رجم کیا جائے گا.