کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 284
کے بارے میں وعدہ کیا تھا، مرثد بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں آیا اور میں چاندنی رات میں مکہ کی ایک دیوار کے سائے میں کھڑا تھا اور عناق آئی اور اس نے دیوار کے نیچے ایک شخص کے سائے کو دیکھا، تو میرے پاس آئی اور اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنے لگی:مرثد؟ میں نے جواب دیا:ہاں مرثد! کہنے لگی:خوش آمدید! آئیے آج رات ہمارے ہاں بسر کیجیے۔ میں نے جواب دیا:عناق اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے۔ [1] اللہ تعالیٰ پر ایمان نے مرثد کو حرام کاری سے روکا حالانکہ انھیں فرصت میسر تھی، دعوت دینے والی عورت سے انھیں شدید محبت بھی تھی، [2] لیکن اس محبت کے باوجود انھوں نے فحاشی کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ ان کے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور دل میں اللہ تعالیٰ کے خوف میں اس وجہ سے کوئی کمی آئی۔ ۳۔ گناہوں سے توبہ میں ایمان کا اثر: اسلامی شریعت مومنوں کے ذہن میں اس بات کو راسخ کردیتی ہے کہ اگر انھوں
[1] جامع ترمذی ۴/ ۱۵۳، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن ترمذی ۳/۸۰). [2] مرثد کی عناق سے محبت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ انھوں نے اس سے نکاح کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار اجازت طلب کی جیسا کہ اسی روایت میں مذکور ہے اور مرثد روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں عناق سے نکاح کرلوں میں عناق سے نکاح کرلوں؟ انھوں نے دوبار عرض کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی:اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَا اِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔ ) ، (حوالہ مذکور ۴/ ۱۵۳).