کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 277
ساتھ مشروط ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلاَّ تَعُوْلُوْا۔ [1]
(اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ(سب عورتوں سے)یکساں سلوک نہ کرسکوگے تو ایک عورت(کافی ہے)یا لونڈی جس کے تم مالک ہو، اس سے تم بے الفاظی سے بچ جاؤ گے۔)
شیخ سعدی رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ تعدد ازواج اس صورت میں جائز ہے، جب مرد کو اپنے بارے میں یہ اطمینان ہو کہ وہ ظلم و زیادتی نہیں کرے گا، نیز اسے تمام عورتوں کے حقوق ادا کرنے کے بارے میں اپنے آپ پر پورا اعتماد ہو، اگر اسے اس بارے میں ذرا بھی اندیشہ ہو تو اسے صرف ایک بیوی یا باندی پر اکتفاء کرنا چاہیے۔ [2] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تمام بیویوں کے حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی مرد کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں عدل نہ کرے، تو روزِ قیامت وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہوگا۔ [3] اس کے ساتھ
[1] سورۃ النساء:آیت ۳ کا ایک حصہ.
[2] تفسیر کلام المنان ۲/ ۹.
[3] جامع ترمذی ۲/ ۱۹۵، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن الترمذی ۱/ ۳۳۳) علامہ مبارکپوری l فرماتے ہیں کہ طیبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ ’’ وشقہ ساقط ‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اس کا نصف دھڑ مفلوج ہوگا، کہا گیا ہے کہ یہ اس لیے تاکہ میدانِ حشر میں سب لوگ اسے دیکھ لیں اور اس طرح یہ بات اس کے لیے عذاب میں اضافے کا سبب بنے … اور یہ حکم صرف دو عورتوں کے حوالے ہی سے نہیں بلکہ اگر بیویاں تین یا چار ہوں تو پھر عدم انصاف کی صورت میں اس کا دھڑ مفلوج ہوگا، اس سے اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اگر اس نے اپنی ایک بیوی کی طرف ساری توجہ مبذول کی اور تین کو چھوڑ دیا، تو اس اصول کے مطابق اس کے جسم کا تین چوتھائی حصہ مفلوج ہو۔ (تحفۃ الاحوذی ۲/ ۱۹۵).