کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 276
کرے۔ برٹرینڈرسل نے لکھا ہے کہ ’’ ایک عورت کے ساتھ شادی کا نظام اور اسکی مکمل تنفیذ اس بنیاد پر ہے کہ دونوں جنسوں کے افراد کی تعداد برابر ہے اور جب صورتِ حال ایسی نہیں ہے تو اس نظام کا باقی رہنا ان عورتوں کے لیے ظلم عظیم ہے، جنھیں حالات نے شادی کے بغیر اپنے پر مجبور کردیا۔ [1] پھر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ تعدد کا جواز مطلق نہیں ہے بلکہ یہ عورتوں میں عدل کے
[1] بحوالہ کتاب الفکر الاسلامی والتطور، استاذ محمد فتحی عثمان، ص ۲۳۲، انھوں نے یہ بات برٹرینڈرسل کی کتاب ’’ الزواج والاخلاق ‘‘ (شادی اور اخلاق) کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ شیخ رشید رضا اپنی کتاب ’’ حقوق النساء فی الاسلام ‘‘ (جنس لطیف سے خطاب) میں لکھتے ہیں کہ میگزین (لاغوص، ہفت روزہ رکورڈ) مجریہ ۲۰، اپریل ۱۹۰۱ء میں ایک فاضل مصنفہ کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس کا ترجمہ و تلخیص یہ ہے کہ ’’ ہماری بہت سی بیٹیاں بے راہ روی گئی ہیں، مصیبت عام ہوگئی ہے اور اس کے بارے میں تحقیق کرنے والے بہت کم ہیں، میں عورت ہوتے ہوئے جب ان کو دیکھتی ہوں، تو میرا دل شفقت و غم کی وجہ سے پھٹنے لگتا ہے، لیکن میرے غم و حزن اور داد و کرب سے انھیں کیا فائدہ؟ اس میں اگر سارے لوگ شریک ہوجائیں تو پھر بھی کیا فائدہ؟ فائدہ تو اس کام کا ہے، جو انھیں اس گندی حالت میں مبتلا ہونے سے روک دے، اللہ عالم و فاضل ٹامس کا بھلا کرے، انھوں نے جب اس بیماری کو دیکھا تو اس کی شفایابی کے لیے ایک مفید و جامع دو تجویز کی اور وہ یہ کہ مرد کے لیے ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ شادی کو جائز قرار دے دیا جائے، اس سے یقینا یہ مصیبت ختم ہوجائے گی اور ہماری بیٹیاں گھروں کی رانیاں بن جائیں گی، اس ساری مصیبت کا سبب یہ ہے کہ یورپی مرد کو صرف ایک عورت کے ساتھ شادی پر مجبور کردیا گیا ہے، اس پابندی نے ہماری بیٹیوں کو بے راہ رو اور بدچلن بنادیا اور انھیں مردوں جیسے کام کاج کرنے پر مجبور کردیا ہے، لہٰذا اگر مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہ دی گئی، تو اس خرابی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ان شادی شدہ مردوں کی تعداد کو ہم کس پیمانے سے ناپیں، جن کی ناجائز اولاد انسانی معاشرے کے لیے ایک بوجھ اور باعث ننگ و عار ہے؟ اگر تعدد ازواج جائز ہوتا، تو ان ناجائز بچوں اور ان کی ماؤں کو اس رسوا کن عذاب میں نہ مبتلا ہونا پڑتا … تعدد اواج کے جواز ہی سے ہر عورت گھر کی مالکہ اور اپنے جائز بچوں کی ماں بن سکتی ہے۔ (ص ۷۵، (تصرف کے ساتھ) ط۔ المکتب الاسلامی، بیروت).