کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 275
پائمالی ہے، تو یہ صحیح نہیں ہے بلکہ صحیح اس کے برعکس ہے یعنی تعدد ازواج تو عورتوں کے لیے باعث رحمت ہے کیونکہ مردوں کی تعداد کم ہے، [1] لہٰذا کسی عورت کا ایک خاندان میں دوسری بیوی کی حیثیت سے رہنا کس سے بہتر ہے کہ وہ شادی کے بغیر زندگی بسر
[1] ڈاکٹر عبدالواحد وافی لکھتے ہیں کہ ’’ ڈیمو گرافیا یا علم مردم شماری کی رو سے دوران ولادت یا طفولت کے ایام میں فوت ہونے والے لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے جیسا کہ تمام اقوام عالم میں بچوں کی وفات سے متعلق اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے۔ ابتدائی طفولت کے اختتام تک بہت سی اقوام میں زندہ بچ رہنے والے لڑکوں کی تعداد اس مرحلہ کے اختتام تک بچ رہنے والی لڑکیوں کی تعداد سے کم ہے حتی کہ یہ صورتِ حال ان اقوام میں بھی ہے، جن میں لڑکوں کی شرح پیدائش لڑکیوں کی شرح پیدائش سے زیادہ ہے۔ ـ(مشکلات المجتمع المصری، ڈاکٹر علی عبدالواحد وافی، ص ۶۱۔ ۶۲) مردوں کو زیادہ خطرات و اموات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انگریزی مصنف برنارڈشا ((Bernordshown)) نے لکھا ہے کہ یہ حکمت علیا کی بات ہے کہ مرد کو عورتوں سے زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر دنیا پر کوئی افتاد پڑے، تو اس میں تین چوتھائی مرد ختم ہوجائیں گے لہٰذا ایک مرد کے لیے چار عورتوں سے شادی کے سلسلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کے بغیر چارہ کار نہیں تاکہ وہ جو گم پائے، اسے تھوڑی مدت بعد ہی حاصل کرلے۔ (پروفیسر احمد محمد جمال کے ’’ نساؤنا نساؤھم ‘‘ کے زیر عنوان مطبوعہ لیکچر ص ۶ سے مأخوذ) اس بات کا شاہد یہ بھی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں قتل ہونے والے جوانوں کی تعداد بیس ۲۰ ملین کے قریب ہے، جب کہ جنگی کاموں سے وابستہ مقتول خواتین کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ (بحوالہ کتاب حقوق الانسان فی الاسلام، ڈاکٹر علی عبدالواحد وافی ہے، ص ۱۵۷) ۱۹۴۸ء میں انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس نے میونخ / جرمنی میں تعدد ازواج کے جواز کی سفارش کی تھی تاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت کے مسئلہ کو حل کیا جاسکے۔ (بحوالہ تفسیر آیات الاحکام ۱/ ۱۳۰، شیخ محمد علی صابونی) پھر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ عورتوں کی عمریں مردوں کی عمروں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ بیری جلموٹ نے لکھا ہے: "Female longvity having increased at a faster rate thos, while which in many eases shows a tendeney to stagnate or even to deeline." (عورتوں کی عمروں میں اضافہ کی نسبت، مردوں کی عمروں میں اضافہ کی نسبت سے زیادہ ہے، جو بہت سے احوال میں ایک ہی شرح پر رکی ہوئی ہے یا پھر کمی کی طرف مائل ہے۔ (انخضاض عدد سکان فی اوروبا، ص ۴۵).