کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 274
پہلے سے شادی شدہ مرد کے ساتھ شادی کرنے کو ضرور قبول کرلے بلکہ اسلام نے اس معاملہ کو اس کی اپنی رضامندی پر چھوڑ دیا ہے، اگر وہ اس شخص سے بطیب خاطر شادی کو قبول کرلے، تو یہ بات اس بات کی دلیل ہوگی کہ اس کی نظر میں یہ صورتِ حال اس کے لیے مرد کسی ضرر یا اس کی عزت کی کمی یا اس کی حق تلفی کی موجب نہ ہوگی۔ [1] پہلی بیوی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نکاح کے وقت یہ شرط عائد کرے کہ اس کا شوہر اس کی موجودگی میں کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کرے گا، اگر اس کا شوہر اس شرط کو پورا نہ کرے، تو اسے علیحدگی کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا۔ علامہ ابوالقاسم عمر بن حسین بن عبداللہ بن احمد خرقی لکھتے ہیں کہ ’’ اگر اس نے اس عورت سے شادی کرلی اور یہ شرط لگائی کہ وہ اس کی موجودگی میں کسی اور عورت سے شادی نہیں کرے گا، تو جب وہ اس کی موجودگی میں کسی اور عورت سے بھی شادی کرلے، تو اسے اس سے علیحدگی اختیار کرلینے کا حق حاصل ہوگا۔ [2] جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تعدد ازواج کے نظام میں عورت کے حقوق کی
[1] بحوالہ المغنی ۶/ ۵۴۸، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے شادی کی اور عورت کے وارثوں نے اس پر یہ شرط عائد کی کہ اس سے عورت کی موجودگی میں اس نے جس بھی کسی اور عورت سے شادی کی، تو اسے طلاق ہوجائے گی اور اس کی موجودگی میں جو باندی بھی لائے، وہ آزاد ہوجائے گی، مذاہب اربعہ میں اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے اس سوال کے جواب کے ضمن میں یہ بھی فرمایا کہ اس مسئلہ کے بارے میں تین اقوال ہیں:(۱) اس صورت میں طلاق و عتاق واقع ہوجائے گی۔ (۲) واقع نہیں ہوگی اور (۳) اور یہ سب سے زیادہ مبنی بر عدل قول ہے کہ اس سے طلاق و عتاق تو واقع نہیں ہوگی البتہ اس کی پہلی بیوی کو وہ شرط حاصل ہوگی، جو اس نے عائد کی تھی، لہٰذا اگر وہ چاہے تو اس کے ساتھ رہے اور اگر چاہے تو اس سے علیحدگی اختیار کرلے۔ یہ معتدل قول ہے۔ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ۳۲/ ۱۶۹). [2] الأسرۃ المثلیٰ فی ضئوا القرآن والسنۃ، ص ۱۳۰.