کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 266
کو واپس کردوگی؟ اس نے عرض کیا:جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(ثابت سے)فرمایا:باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔ [1]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ بن مزنی تابعی رحمہ اللہ کے سوا تمام علماء کا خلع کی مشروعیت پر اجماع ہے۔ [2]
۱۶۔ عورت کو اس قدر نقصان پہنچانے کی ممانعت کہ وہ خلع کا مطالبہ کرنے لگ جائے:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلامی شریعت بیضاء نے عورت کے حقوق کو ملحوظ رکھا ہے اور شوہروں کے لیے اسے نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیا ہے حتی کہ وہ مال دے کر اپنی جان چھڑانے پر مجبور نہ ہوجائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرْثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوُھُنَّ۔[3]
(تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور(دیکھنا)اس
[1] صحیح البخاری ۹/ ۳۹۵.
[2] فتح الباری ۹/ ۳۹۵، امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاز و شام کے تمام فقہاء خلع کی مشروعیت کے قائل ہیں۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ بکر بن عبداللہ مزنی کے سوا کسی اور نے اس کی مخالفت کی ہو، انھوں نے خلع کو جائز قرار نہیں دیا۔ (المغنی ۷/ ۵۱).
[3] المغنی ۷/ ۵۴، ۵۵، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں عقد صحیح ہے یعنی خلع واقع ہوجائے گا، معاوضہ دینا لازم ہوگا اور شوہر گناہ گار و نافرمان ہوگا۔ (دیکھئے:حوالہ مذکور، ص ۵۵).