کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 265
(اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت(خاوند کے ہاتھ سے)رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میاں بیوی میں اختلاف ہو، عورت مرد کے حقوق کو ادا نہ کرے، اور اس سے نفرت کرے اور اس کے ساتھ مل کر زندگی بسر نہ کرسکے، تو اسے چاہیے کہ اس کے شوہر نے اسے جو مال دیا تھا، وہ اسے واپس کردے، وہ مال اسے واپس کرنے میں کوئی حرج نہیں، شوہر کے لیے اس سے اس مال کے واپس لینے میں کوئی حرج نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْئًا اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ۔[1]
(اور یہ جائز ہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت(خاوند کے ہاتھ سے)رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین کے بارے میں کوئی الزام عائد نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں، [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس کے باغ
[1] تفسیر ابن کثیر ۱/ ۲۷۲.
[2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں علامہ طیبی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ خاتون کے اس قول کے معنی یہ ہیں کہ میں اسلام میں اپنے بارے میں، اس بات سے ڈرتی ہوں کہ اسلام کے کسی کج روی اور نفرت کے حکم کی مخالفت کروں، جیسا کہ اس جوان اور خوب صورت عورت سے توقع ہوتی ہے، جو اپنے اس شوہر سے نفرت کرے، جو اس کی ضد ہو، اسلام کے تقاضے کے منافی بات کو اس نے کفر سے تعبیر کیا۔ (فتح الباری:۹/ ۴۰۰).