کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 264
کیا ہے کہ جس عورت نے کسی شدید وجہ کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر خبث کی خوشبو حرام ہے۔ [1] امام نسائی رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شدید وجہ کے بغیر خلع اور طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔ [2] ۱۵۔ خلع کا شرعی جواز: جب عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہ رہ سکے اور ازدواجی زندگی کے محبت و اخلاص کے ساتھ جاری رہنے میں اپنا مطلوب کردار نہ ادا کرسکے، تو اسلامی شریعت نے اس کے حالات اور اس کی طبیعت کی پاسداری کی اور اسے خلع کی صورت میں اپنے سوہر سے علیحدگی کے مطالبہ کا حق دیا ہے۔ خلع سے مراد … جیسا کہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے کہا ہے … یہ ہے کہ جب عورت اپنے شوہر کو ناپسند کرے اور اسے اندیشہ ہو کہ وہ اس کا حق ادا نہیں کرسکے گی یا اسے یہ خدشہ ہو کہ اس کا شوہر اسے ناپسند کرتا ہے اور وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ فدیہ دے کر اس سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔ [3] ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ۔ [4]
[1] اس حدیث کی تخریج کے لیے اس کتاب کا صفحہ … ملاحظہ فرمائیں. [2] سنن نسائی ۶/ ۱۶۸، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:صحیح سنن نسائی ۲/ ۷۳۱). [3] المحلّٰی ۱۰/۲۳۵، امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت اپنے شوہر کو اس کی صورت یا اس کے اخلاق، یا اس کے دین یا اس کے بڑی عمر کے ہونے یا اس کی جنسی کمزوری وغیرہ کی وجہ سے ناپسند کرے اور اسے اندیشہ ہو کہ وہ اس کی اطاعت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا نہ کرسکے گی، تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے اسے کچھ معاوضہ دے دے۔ (المغنی ۷/ ۵۱). [4] سورۃ البقرہ/ آیت ۲۲۹ کا کچھ حصہ.