کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 261
وہ حالت حیض میں ہو اور نہ ایسے طہر میں جس میں اس نے اس سے جماع کیا ہو، وغیر ذلک، پھر اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ میاں بیوی میں تین طلاقوں کے بعد تفریق ہوگی، مرد چاہے تو وہ طلاق سے رجوع کرکے تفریق کے دروازے کو بند کرسکتا ہے، خواہ اس نے دو طلاقیں دے دی ہوں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ م بِإِحْسَانٍ۔[1]
دوسری طرف اسلام نے طلاق کو اس طرح حرام قرار نہیں دیا، جس طرح نصرانیت نے اسے حرام قرار دیا ہے، تاکہ میاں بیوی شادی کے دائرہ سے باہر غیر شرعی تعلقات قائم کرکے حرام کا ارتکاب نہ کریں بلکہ اختلاف کے وقت طلاق کو جائز قرار دیا ہے تاکہ ہر ایک اپنی پسند کے جوڑے کو حاصل کرے۔ امام کاسانی لکھتے ہیں ’’ طلاق دراصل مصلحت کی وجہ سے جائز قرار دی گئی ہے کیونکہ بسااوقات زوجین کے اخلاق مختلف ہوسکتے ہیں اور اخلاق کے مختلف ہونے کی صورت میں نکاح کا باقی رہنا قرین مصلحت نہیں ہوتا کیونکہ اس صورت میں یہ مقاصد کے لیے وسیلہ نہیں بن سکتا لہٰذا مصلحت طلاق کی صورت میں تبدیل ہوجاتی ہے، تاکہ ان میں سے ہر ایک اپنے مزاج کے مطابق جوڑا اختیار کرلے، جس سے نکاح کے مصالح اور مقاصد پورے ہوں۔ [2]
[1] سورۃ البقرہ/ آیت ۲۲۹ کا ایک حصہ.
[2] بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ۳/ ۱۱۲، طبع دار الکتاب العربی، بیروت، ۱۳۹۴ھ۔ ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ تمام لوگوں کا طلاق کے جواز پر اجماع ہے، عبرت بھی جواز پر دال ہے کیونکہ بسااوقات میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں اور اس صورت میں نکاح کا باقی رکھنا محض مفسدت اور شوہر کو نفقہ و سکنیٰ کا پابند کرنا محض ضرر ہوتا ہے نیز اس صورت میں سوء غرت کے باوجود عورت کو روکنا اور بلافائدہ روز روز کے جھگڑے کو باقی رکھنا لازم آتا ہے لہٰذا اس کے باقی رہنے کی صورت میں حاصل ہونے والی مفسدت ختم ہوجاتی۔ (المغنی ۷/ ۶۶۔ ۶۷).