کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 257
تاکہ زوجین میں سے ہر ایک اصلاح احوال کے لیے کوشش کرے اور ایک زوج کی بجائے کسی دوسرے زوج سے رشتہ استوار کرلے؟ اس مسئلہ میں ہم یہودیت و نصرانیت کے مؤقف کو بیان کریں گے اور پھر ہم اس حل کا ذکر کریں گے، جو اس بارے میں اسلام نے پیش کیا ہے۔
۱۰۔ طلاق کے بارے میں یہودیت و نصرانیت کا مؤقف:
اس مسئلہ میں یہودیت کا مؤقف سفر تشنیۃ الاشتراع میں اس طرح مذکور ہے ’’ جب کوئی شخص کسی عورت کو اپنی بیوی بنالے اور خود اس کا شوہر بن جائے اور پھر وہ عورت کسی ایسے عیب کی وجہ سے، جسے اس کا خاوند ناپسند کرتا ہو، اپنے شوہر کے ہاں پذیرائی حاصل نہ کرسکے، تو وہ اس کے لیے طلاق نامہ لکھ کر اس کے ہاتھ میں دے دے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے۔ ‘‘[1]
عیسائیوں کا مؤقف اس مسئلہ میں یہودیوں کے بالکل مخالف ہے۔ اگرچہ ان میں اختلاف ہے لیکن عیسائی طلاق کو بالکل حرام قرار دیتے ہیں اور اسے انتہائی ناگزیر حالات ہی میں جائز قرار دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نصاریٰ بعض لوگوں کے لیے نکاح کو حرام قرار دیتے ہیں اور جس کے لیے نکاح جائز قرار دیتے ہیں، اس کے لیے طلاق جائز قرار نہیں دیتے، یہودی طلاق کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن مطلقہ اگر اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرلے، تو ان کے ہاں اس کے لیے وہ عورت حرام ہوگی، نصاریٰ کے ہاں طلاق نہیں اور یہودیوں کے نزدیک اگر عورت کسی اور سے نکاح کرلے، تو پھر پہلے شوہر کے لیے مراجعت کا کوئی حق نہیں ہے۔ [2]
[1] کتابِ مقدس (ان کے ہاں) ۱/ ۳۲۶، فصل ۲۴، آیت ۱.
[2] عیسائیوں کے کیتھولک مذہب میں طلاق ہمیشہ کے لیے حرام ہے اور کسی صورت میں بھی شادی کے بندھن کو توڑنا جائز نہیں خواہ اس کا کتنا بڑا سبب ہی کیوں نہ ہو، کیتھولک کے اس مؤقف کی بنیاد انجیل متی میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب یہ قول ہے کہ ’’ یہ صحیح نہیں کہ انسان اسے جدا کردے، جسے اللہ نے جمع کیا ہے۔ ‘‘ (انجیل متی ۱۹، فقر ۶۰) آرتھوڈکس مذہب میں یہ ہے کہ طلاق جائز نہیں سوائے اس حالت کے بیوی شوہر کی یا شوہر بیوی کی خیانت کرے اور پھر اس کے بعد طلاق دینے والے اور مطلقہ کے لیے شادی حرام ہوگی، اس مذہب کا انحصار زنا کے بغیر طلاق کی حرمت کے بارے میں انجیل متی کے اس قول پر ہے کہ ’’ جو شخص زنا کے سبب کے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دے، وہ گویا اسے زانیہ بناتا ہے، ‘‘ (انجیل متی اصحاح ۵/ فقرہ ۳۲) طلاق کے بعد شادی کی حرمت کے بارے میں ان کی دلیل انجیل کا یہ حکم ہے:’’ جو کسی مطلقہ سے شادی کرے، وہ زنا کرتا ہے۔ ‘‘ (حوالہ مذکور) انجیل میں یہ بھی ہے کہ ’’ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کرے، تو وہ جرمِ زنا کا ارتکاب کرتی ہے۔ ‘‘ (مرقس، اصحاح ۱۰، فقرہ ۱۱۔ ۱۲) پروٹسٹنٹ مذہب میں محدود حالات میں طلاق جائز ہے، جن میں ہم ازدواجی خیانت ہے اور پھر اس کے بعد اس عورت کے لیے شادی کرنا حرام ہے۔ (بحوالہ کتاب الأسرۃ والمجتمع، ڈاکٹر عبدالواحد وافی، ط۔ دار النہفہ، مصر، ۱۳۹۷، ص ۱۴۵، ۱۴۶).