کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 255
کرے اور مرد میں جنون یا جزام یا برص وغیرہ کا عیب ہو، جو عورت کو معلوم نہ تھا، تو اسے اختیار دیا جائے گا۔ [1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی میں سے جب کسی ایک میں جنون یا جذام یا برص وغیرہ ظاہر ہو تو دوسرے کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا، [2] انھوں نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ جب یہ ظاہر ہوجائے کہ شوہر مجذوم ہے تو عورت کو شوہر کے کسی اختیار کے بغیر فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔ واللہ أعلم۔ [3] ۸۔ عیوب کی تحدید: فقہاء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ وہ کون سے عیوب ہیں، جن کی وجہ سے نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے۔ [4] بعض نے صرف دو عیب بتائے ہیں، بعض نے چھ، بعض نے سات اور بعض فقہاء کا یہ مذہب ہے کہ عورت کو ہر اس عیب کی وجہ سے ردّ کیا جائے گا، جس کی وجہ سے بیع میں باندی کو ردّ کیا جاسکتا ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ اس مسئلہ کے بارے
[1] مصنف ابن ابی شیبہ ۴/ ۱۷۷. [2] مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ۳۲/ ۱۷۱. [3] حوالہ مذکور ۳۲/ ۱۷۱. [4] امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح مرد کے مقطوع الذکر یا اس کے آلۂ تناسل کے بہت چھوٹے یا بہت ہی بڑے ہونے کی صورت میں فسخ کیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ و امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جنون، برص، جذام، قرن، جب اور عنہ کی وجہ سے نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے۔ امام احمد نے ان عیوب کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ عورت فشقا ہو یعنی اس کے دونوں راستے بہت کشادہ ہوگئے ہوں، بعض اصحاب شافعی کا قول ہے کہ عورت کو ہر اس عیب کی وجہ سے ردّ کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے باندی کی بیع کو ردّ کیا جاسکتا ہے۔ (منقول از زاد المعاد ۳/ ۳۰، تصرف کے ساتھ) فقہاء کے ان اقوام میں استعمال ہونے والے الفاظ میں سے جَبْ کے معنی ہیں، وہ مرد جس کا آلۂ تناسل خصیتین کیے ہوئے ہوں یا جس کا مشغہ کٹا ہوا ہو، عنتہ کے معنی وہ مرد یا جس کا آلۂ تناسل چھوٹا ہو یا آلۂ تناسل بہت موٹا ہو کہ اس کے ساتھ جماع نہ ہوسکتا ہو۔ فتقاء اس عورت کو کہتے ہیں، جس کا پیشاب اور منی کا راستہ کشادہ ہو کر لیک ہوگیا ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ فتقاء اس عورت کو کہتے ہیں، جس کی قبل اور دبر کا راستہ ایک ہوگیا ہو.