کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 254
تاوان ہوگی۔ [1] سعید بن منصور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ عورت میں سینگ ہو، [2] تو اس کے شوہر کو اختیار ہے، اگر اس نے اس سے مباشرت کرلی تو اس کی شرم گاہ کو حلال قرار دینے کی وجہ سے وہ حق مہر کی مستحق ہوگی۔ [3] شوہر میں عیب کی وجہ سے بیوی کے تفریق کے مطالبہ کے حق کے بارے میں دلیل سعید بن منصور کی ابن سیرین سے یہ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقات کی وصولی کے لیے ایک شخص کو بھیجا تو اس نے ایک عورت سے شادی کرلی حالانکہ وہ بانجھ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:کیا تو نے اسے اپنے بانجھ ہونے کے بارے میں بتایا ہے؟ آپ نے فرمایا:جاؤ اسے بتاؤ اور پھر اسے اختیار دے دو۔ [4] امام مالک رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ جس مرد نے کسی عورت سے شادی کی اور وہ جنون یا کسی اور مرض میں مبتلا ہو تو اس صورت میں عورت کو اختیار دیے دیا جائے گا، وہ چاہے تو اس شادی کو برقرار رکھے اور اگر چاہے تو علیحدگی اختیار کرے۔ [5] حافظ ابن ابی شیبہ نے امام زہری سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی
[1] مصنف ابن ابی شیبہ ۴/ ۱۷۵، حافظ ابن حجر نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ (بلوغ المرام، ص ۲۱۱۔ ۲۱۲)، مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ. [2] سینگ سے مراد عورت کی شرم گاہ میں سینگ جیسی کوئی چیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس سے مباشرت نہیں کی جاسکتی، اسے عربی میں عفلہ بھی کہا جاتا ہے. [3] بلوغ المرام، ص ۲۱۲، ط۔ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نامردی کی وجہ سے تفریق کے بارے میں حضرت عمر، عثمان، عبداللہ بن مسعود، سمرہ بن جندب، معاویہ بن ابی سفیان، حارث بن عبداللہ بن ربیعہ اور مغیرہ بن شعبہ e سے مروی ہے۔ (زاد المعاد ۳/ ۳۰). [4] زاد المعاد ۴/ ۳۰. [5] الموطأ، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی ۲/ ۵۶۳، ط۔ مصطفیٰ البابی الحلبی، مصر، ۱۳۷۰ ھ.