کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 253
اس مبحث میں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ مناسب تفصیل کے ساتھ پہلے ان عیوب کو بیان کریں گے، جن کی وجہ سے تفریق ہوسکتی ہے، پھر طلاق کے جواز کو بیان کریں گے اور پھر خلع کے موضوع پر روشنی ڈالیں گے۔
۷۔ اوّلاً:عیوب کی وجہ سے تفریق:
میاں بیوی میں سے کسی میں کوئی ایسا عیب ہوسکتا ہے، جس سے دوسرا نفرت کرتا ہو اور اس طرح نکاح میاں بیوی کو عفت و پاک دامنی عطا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہو، اس حالت میں اسلامی شریعت بیضاء نے ازدواجی ربط و تعلق کے ختم کرنے کو بہت آسان بنادیا ہے تاکہ عیب کی وجہ سے نقصان اُٹھانے والے کی خواہش کو پورا کیا جاسکے۔ [1]
بیوی میں عیب کی وجہ سے شوہر کے فسخ نکاح کے حق کی دلیل ہے وہ روایت ہے، جسے حافظ ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جس نے کسی ایسی عورت کے ساتھ نکاح کیا، جو برص، جزام یا جنون کے مرض میں مبتلا ہو اور اس نے اس کے ساتھ جماع کرلیا تو وہ عورت حق مہر کی مستحق ہوگی کیونکہ اس کے شوہر نے اس کی شرم گاہ کو حلال کرلیا ہے اور مہر کی ادائیگی اس کے شوہر کے لیے
[1] اس کے برعکس امام داؤد اور ابن حزم … رحمہما اللہ تعالیٰ … کا یہ قول ہے کہ عیب کی وجہ سے نکاح قطعاً فسخ نہیں ہوگا۔ (بحوالہ زاد المعاد ۳/ ۳۰) البتہ ابن حزم نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر انھوں نے عقد نکاح کے وقت عیب سے سلامتی کی شرط عائد کی ہو اور پھر کوئی بھی عیب نکل آیا، تو نکاح منسوخ و مردود ہوگا، ایسے نکاح کے جواز کا اسے کوئی اختیار ہوگا اور نہ اس میں مہر، میراث اور نفقہ ہوگا، خواہ اس نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو کیونکہ اس کے پاس جس بیوی کو بھیجا گیا ہے، یہ وہ نہیں ہے، جس سے اس نے شادی کی تھی کیونکہ بلاشک و شبہ عیب سے پاک اور عیب والی میں فرق ہوتا ہے، جب اس نے اس سے نکاح ہی نہیں کیا تو دونوں میں رشتہ زوجیت بھی نہیں ہے۔ (المحلی ۱۰ / ۱۱۵).