کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 250
خدمت میں حاضر تھیں، اس وقت مرد اور عورتیں بھی آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا شاید مرد اس بارے میں بیان کرتا ہے، جو وہ اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے اور شاید عورت بھی وہ بیان کرتی ہے، جو وہ اپنے شوہر کے ساتھ کرتی ہے، لوگ خاموش ہوگئے [1] اور انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے عرض کیا:ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں اور مرد بھی ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسا نہ کرو، اس کی مثال تو ایسے ہے جیسے کوئی شیطان رستے میں کسی شیطانہ سے ملے اور اس سے مباشرت شروع کردے اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں۔ [2]
علامہ شوکانی رحمہ اللہ ان دونوں حدیثوں کے شرح میں فرماتے ہیں کہ ’’ یہ دونوں حدیثیں اس بات کی دلیل ہیں کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لیے جماع کے امور و معاملات کے بارے میں لوگوں سے بات کرنا حرام ہے کیونکہ ایسا کرنے والے کو آپ نے تمام لوگوں سے بدترین قرار دیا ہے، اسے اس شیطان کی طرح قرار دیا ہے، جو رستے میں کسی شیطانہ سے ملے، اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا شروع کردے اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، یہ حدیث اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لیے جماع اور اس کے مقدمات سے متعلق خفیہ باتوں کو بیان کرنا حرام ہے۔ [3] حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ مذکورہ بالا ممانعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب ستر پوشی واجب ہے اور اس بات کو ظاہر کرنا جس پر پردہ ڈالا گیا ہو، اس کے موضوع کو الٹ دینے کے مترادف اور اس کی غرض کے منافی ہے تو
[1] حدیث کے الفاظ فأوم القوم کے معنی یہ ہیں کہ ’’ لوگ خاموش ہوگئے اور انھوں نے کوئی جواب نہ دیا.
[2] المسند ۶/ ۴۵۶۔ ۴۵۷، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تین شواہد ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ان شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح یا کم از کم حسن ضرور ہے۔ (آداب الزفاف، ص ۷۲، حاشیہ نمبر ۱).
[3] نیل الاوطار ۶/ ۲۲۴.