کتاب: زنا کے قریب نہ جاؤ - صفحہ 249
لکھا ہے کہ بے پردگی بے حیائی تک پہنچاتی ہے اور بے حیائی زنا کی طرف لے جاتی ہے۔ [1]
۵۔ ب۔ جماع کے حالات کے بارے میں گفتگو کی ممانعت:
اسلامی شریعت نے بوقت جماع صرف پردہ پوشی کے وجوب پر اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والے واقعات کے بارے میں گفتگو کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس قسم کی گفتگو سننے سے دوسروں کی شہوت بھڑکتی ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں سے سب سے زیادہ برے مقام و مرتبہ والا وہ شخص ہوگا جو اپنی بیوی سے صحبت کرتا اور اس کی بیوی اس سے صحبت کرتی ہے [2] اور پھر وہ اس کے راز کو افشا کرتا ہے۔ [3] امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد کے لیے اپنی بیوی سے لطف اندوز ہونے کے واقعات اور ان کی تفصیلات کو بیان کرنا اور بیوی کے قول یا فعل کے بارے میں دوسروں کو بتانا حرام ہے۔[4]
امام احمد رحمہ اللہ نے اسماء بنتِ یزید رضی اللہ عنہما سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
[1] المغنی ۷/ ۲۵، اس سلسلہ میں المغنی ہی میں امام احمد رحمہ اللہ کا قول بھی ملاحظہ فرمائیں.
[2] اس حدیث کے الفاظ:’’ إِنَّ مِنْ اَشَرَّ النَّاسِ ‘‘ کے بارے میں قاضی لکھتے ہیں کہ روایت میں لفظ ’’اشر ‘‘ (الف کے ساتھ) ہی آیا ہے لیکن اہل نحو کہتے ہیں کہ ’’ اشر اور اخیر ‘‘ کے الفاظ جائز نہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ ھو شرمنہ، وخیر منہ ‘‘ لیکن انھوں نے کیا ہے کہ صحیح احادیث میں یہ الفاظ دونوں طرح آئے ہیں اور یہ احادیث ان کے دونوں طرح جواز کی دلیل ہیں اور ان کے بارے میں یہ دونوں لغت ہیں۔ (بحوالہ شرح نووی ۱۰/ ۸).
[3] یعض الی امرأتہ کے معنی ہیں کہ وہ مباشرت و مجامعت کے لیے اس کے پاس پہنچتا ہے.
[4] شرح النووی ۱۰/ ۸.